غزل

ये पयाम दे गई है मुझे बाद-ए-सुब्ह-गाही

ये पयाम दे गई है मुझे बाद-ए-सुब्ह-गाही
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل صبح کی ہوا کے پیغام کی طرح ہے، جو حقیقی علم اور محفل کے رازوں کا بیان کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ خودی ہی اصل وقار کا ذریعہ ہے، اور رہنمائی نہ ملنے پر بھی، فن اور گفتار میں ابھی سیکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ये पयाम दे गई है मुझे बाद-ए-सुब्ह-गाही कि ख़ुदी के आरिफ़ों का है मक़ाम पादशाही
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
یہ پیغام مجھے صبح کی ہوا نے دیا ہے کہ خودی کے عارفوں کا مقام بادشاہی ہے۔
2
तिरी ज़िंदगी इसी से तिरी आबरू इसी से जो रही ख़ुदी तो शाही न रही तो रू-सियाही
تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی
تیری زندگی اور آبرو اسی سے ہے؛ جو خودی رہی تو شاہی رہی، اور جو خودی نہ رہی تو رو-سیاہی۔
3
न दिया निशान-ए-मंज़िल मुझे ऐ हकीम तू ने मुझे क्या गिला हो तुझ से तू न रह-नशीं न राही
نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی
اے حکیم، تو نے مجھے منزل کا نشان نہ دیا؛ مجھے تجھ سے کیا شکایت ہے، تو نہ رہنشی ہو نہ راہگیر۔
4
मिरे हल्क़ा-ए-सुख़न में अभी ज़ेर-ए-तर्बियत हैं वो गदा कि जानते हैं रह-ओ-रस्म-ए-कज-कुलाही
مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی
میرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیں وہ گدا جو جانتے ہیں رہ و رسمِ کج‌کلاہی
5
ये मुआ'मले हैं नाज़ुक जो तिरी रज़ा हो तू कर कि मुझे तो ख़ुश न आया ये तरिक़-ए-ख़ानक़ाही
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
یہ معاملات ہیں نازک جو تیری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقہ-ख़ानक़اہی۔
6
तू हुमा का है शिकारी अभी इब्तिदा है तेरी नहीं मस्लहत से ख़ाली ये जहान-ए-मुर्ग़-ओ-माही
تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
تم ہوما کے شکاری ہو، ابھی تو تمہاری ابتداء ہے؛ یہ پرندوں اور ماہِ کے جہاں منافع سے خالی نہیں ہے۔
7
तू अरब हो या अजम हो तिरा ला इलाह इल्ला लुग़त-ए-ग़रीब जब तक तिरा दिल न दे गवाही
تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی
چاہے تم عرب ہو یا اعظم، تیرا دل 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی تب تک نہیں دے گا جب تک تم اسے نہیں کہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.