غزل
तू अभी रहगुज़र में है क़ैद-ए-मक़ाम से गुज़र
तू अभी रहगुज़र में है क़ैद-ए-मक़ाम से गुज़र
یہ غزل دنیاوی فریب اور تعلقات کی زنجیروں سے آزادی کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تم تو بس ایک گزرگاہ پر ہو، اس مقام کی قید سے نکل جا۔ زندگی کے عارضی لذتوں اور مادی چاشنی سے گزر کر آگے بڑھ۔
نغمہ سنیں
1
तू अभी रहगुज़र में है क़ैद-ए-मक़ाम से गुज़र
मिस्र ओ हिजाज़ से गुज़र पारस ओ शाम से गुज़र
تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر
تُو ابھی رہگزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر۔ مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر۔
2
जिस का अमल है बे-ग़रज़ उस की जज़ा कुछ और है
हूर ओ ख़ियाम से गुज़र बादा-ओ-जाम से गुज़र
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر
جس کا عمل بے غرض ہے، اس کی جزا کچھ اور ہے؛ حوروں اور خیمے سے گزر، بادہ و جام سے گزر۔
3
गरचे है दिल-कुशा बहुत हुस्न-ए-फ़रंग की बहार
ताएरक-ए-बुलंद-बाम दाना-ओ-दाम से गुज़र
گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر
اگرچہ دل کو پھاڑنے والی غیرت و حسن کی بہار ہے، پھر بھی اونچے، گہرے گنبد کے موتی اور جواہر سے گزرنا ہے۔
4
कोह-शिगाफ़ तेरी ज़र्ब तुझ से कुशाद-ए-शर्क़-ओ-ग़र्ब
तेग़-ए-हिलाल की तरह ऐश-ए-नियाम से गुज़र
کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشاد شرق و غرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر
اے، تیری شان کی ضرب، جو مشرق و مغرب سے ہے، عیشِ نظام کے نشے سے قمری ترے گزر۔
5
तेरा इमाम बे-हुज़ूर तेरी नमाज़ बे-सुरूर
ऐसी नमाज़ से गुज़र ऐसे इमाम से गुज़र
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر
ترا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور۔ ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
