Sukhan AI
غزل

तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह

तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق اور روحانیت کے پیچیدہ تعلق کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی نظرِ نعمت اور انسانی حدود کا ذکر ہے۔ شاعر زندگی کے وہم اور سچائی کی تلاش پر زور دیتے ہوئے، خود شناسی اور الٰہی اقرار کی اہمیت بتاتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
6
न है सितारे की गर्दिश न बाज़ी-ए-अफ़्लाक ख़ुदी की मौत है तेरा ज़वाल-ए-नेमत-ओ-जाह
نہ یہ ستاروں کا گردش ہے، نہ یہ کھیلِ افلاک؛ یہ تو خود کی موت ہے، تیرا زوالِ نعمت و جاہ۔
7
उठा मैं मदरसा ओ ख़ानक़ाह से ग़मनाक न ज़िंदगी न मोहब्बत न मा'रिफ़त न निगाह
میں مدرسہ اور خانقاہ کو غمگین ہو کر چھوڑ آیا ہوں؛ نہ زندگی ہے، نہ محبت ہے، نہ معرفت ہے، نہ نگاہ۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.