غزل
तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह
तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह
یہ غزل عشق اور روحانیت کے پیچیدہ تعلق کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی نظرِ نعمت اور انسانی حدود کا ذکر ہے۔ شاعر زندگی کے وہم اور سچائی کی تلاش پر زور دیتے ہوئے، خود شناسی اور الٰہی اقرار کی اہمیت بتاتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह
तिरा गुनह कि नख़ील-ए-बुलंद का है गुनाह
آپ کی نظر ایک عاریت، لمحاتی ہاتھ ہے، اور آپ کا گناہ بلند نخل کا گناہ ہے۔
2
गला तो घोंट दिया अहल-ए-मदरसा ने तिरा
कहाँ से आए सदा ला इलाह इल-लल्लाह
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا، کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ؟
3
ख़ुदी में गुम है ख़ुदाई तलाश कर ग़ाफ़िल
यही है तेरे लिए अब सलाह-ए-कार की राह
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل۔ یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ.
4
हदीस-ए-दिल किसी दरवेश-ए-बे-गलीम से पूछ
ख़ुदा करे तुझे तेरे मक़ाम से आगाह
دل کا راز کسی بے گناہ درویش سے پوچھ؛ خدا کرے تمہیں تمہارے مقام سے آگاہ۔
5
बरहना सर है तो अज़्म-ए-बुलंद पैदा कर
यहाँ फ़क़त सर-ए-शाहीं के वास्ते है कुलाह
اگر سر خالی ہے تو عزمِ بلند پیدا کر؛ یہاں صرف سرِ شاہی کے واسطے ہے۔
6
न है सितारे की गर्दिश न बाज़ी-ए-अफ़्लाक
ख़ुदी की मौत है तेरा ज़वाल-ए-नेमत-ओ-जाह
نہ یہ ستاروں کا گردش ہے، نہ یہ کھیلِ افلاک؛ یہ تو خود کی موت ہے، تیرا زوالِ نعمت و جاہ۔
7
उठा मैं मदरसा ओ ख़ानक़ाह से ग़मनाक
न ज़िंदगी न मोहब्बत न मा'रिफ़त न निगाह
میں مدرسہ اور خانقاہ کو غمگین ہو کر چھوڑ آیا ہوں؛ نہ زندگی ہے، نہ محبت ہے، نہ معرفت ہے، نہ نگاہ۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
