غزل

तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह

तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق اور روحانیت کے پیچیدہ تعلق کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی نظرِ نعمت اور انسانی حدود کا ذکر ہے۔ شاعر زندگی کے وہم اور سچائی کی تلاش پر زور دیتے ہوئے، خود شناسی اور الٰہی اقرار کی اہمیت بتاتے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तिरी निगाह फ़रोमाया हाथ है कोताह तिरा गुनह कि नख़ील-ए-बुलंद का है गुनाह
تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ
آپ کی نظر ایک عاریت، لمحاتی ہاتھ ہے، اور آپ کا گناہ بلند نخل کا گناہ ہے۔
2
गला तो घोंट दिया अहल-ए-मदरसा ने तिरा कहाँ से आए सदा ला इलाह इल-लल्लाह
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا، کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ؟
3
ख़ुदी में गुम है ख़ुदाई तलाश कर ग़ाफ़िल यही है तेरे लिए अब सलाह-ए-कार की राह
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی راہ
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل۔ یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ.
4
हदीस-ए-दिल किसी दरवेश-ए-बे-गलीम से पूछ ख़ुदा करे तुझे तेरे मक़ाम से आगाह
حدیث دل کسی درویش بے گلیم سے پوچھ خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ
دل کا راز کسی بے گناہ درویش سے پوچھ؛ خدا کرے تمہیں تمہارے مقام سے آگاہ۔
5
बरहना सर है तो अज़्म-ए-बुलंद पैदा कर यहाँ फ़क़त सर-ए-शाहीं के वास्ते है कुलाह
برہنہ سر ہے تو عزم بلند پیدا کر یہاں فقط سر شاہیں کے واسطے ہے کلاہ
اگر سر خالی ہے تو عزمِ بلند پیدا کر؛ یہاں صرف سرِ شاہی کے واسطے ہے۔
6
न है सितारे की गर्दिश न बाज़ी-ए-अफ़्लाक ख़ुदी की मौत है तेरा ज़वाल-ए-नेमत-ओ-जाह
نہ ہے ستارے کی گردش نہ بازی افلاک خودی کی موت ہے تیرا زوال نعمت و جاہ
نہ یہ ستاروں کا گردش ہے، نہ یہ کھیلِ افلاک؛ یہ تو خود کی موت ہے، تیرا زوالِ نعمت و جاہ۔
7
उठा मैं मदरसा ओ ख़ानक़ाह से ग़मनाक न ज़िंदगी न मोहब्बत न मा'रिफ़त न निगाह
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ
میں مدرسہ اور خانقاہ کو غمگین ہو کر چھوڑ آیا ہوں؛ نہ زندگی ہے، نہ محبت ہے، نہ معرفت ہے، نہ نگاہ۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.