गला तो घोंट दिया अहल-ए-मदरसा ने तिरा
कहाँ से आए सदा ला इलाह इल-लल्लाह
“The scholar's tongue strangled your declaration, From where did you bring the 'La Ilaha Illallah'?”
— علامہ اقبال
معنی
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا، کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ؟
تشریح
یہ شعر تنقیدِ نظامِ تعلیم اور مذہب پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ اگر آپ کا گلا ہی وہ لوگ گھونٹ دیں جو دین کے علمبردار ہیں، تو آپ کو وہ کلمہِ طیبہ کہاں سے ملے گا؟ یہ سچائی کو دبانے کی کوشش پر ایک شدید ردِ عمل ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
