غزل
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
یہ غزل عشق کی انتہا کو پانے کی عاشق کی معصومانہ اور بے باک تمنا کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں سادگی، شدتِ جذبات اور صبر آزما امتحانات کی آرزو کے ذریعے روحانی و باطنی عشق کے عمیق تقاضوں کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तिरे इश्क़ की इंतिहा चाहता हूँ
मिरी सादगी देख क्या चाहता हूँ
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں تمہاری محبت کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں؛ ذرا میرا بھولا پن تو دیکھو کہ میں کیسی چیز کی تمنا کر رہا ہوں۔
2
सितम हो कि हो वादा-ए-बे-हिजाबी
कोई बात सब्र-आज़मा चाहता हूँ
ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
چاہے مجھ پر ظلم ہو یا بے نقاب سامنے آنے کا وعدہ، میں کوئی ایسی بات چاہتا ہوں جو میرے صبر کا امتحان لے۔
3
ये जन्नत मुबारक रहे ज़ाहिदों को
कि मैं आप का सामना चाहता हूँ
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
یہ جنت پرہیزگاروں اور زاہدوں کو ہی مبارک رہے، کیونکہ میں تو صرف آپ کے روبرو ہونا چاہتا ہوں۔
4
ज़रा सा तो दिल हूँ मगर शोख़ इतना
वही लन-तरानी सुना चाहता हूँ
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
میں محض ایک چھوٹا سا دل ہوں مگر اس قدر شوخ اور بے باک ہوں کہ وہی 'لن ترانی' (تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا) سننا چاہتا ہوں۔
5
कोई दम का मेहमाँ हूँ ऐ अहल-ए-महफ़िल
चराग़-ए-सहर हूँ बुझा चाहता हूँ
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں
اے محفل والو! میں بس چند لمحوں کا مہمان ہوں، صبح کے اس چراغ کی طرح ہوں جو اب بجھنے ہی والا ہے۔
6
भरी बज़्म में राज़ की बात कह दी
बड़ा बे-अदब हूँ सज़ा चाहता हूँ
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
میں نے بھری محفل میں راز کی بات کہہ دی ہے؛ میں بہت بے ادب ہوں اور اب اپنے لیے سزا چاہتا ہوں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
