“A frail, tiny heart I may be, yet so audaciously bold, / I yearn to hear that very same denial: 'Thou shalt not behold!'”
میں محض ایک چھوٹا سا دل ہوں مگر اس قدر شوخ اور بے باک ہوں کہ وہی 'لن ترانی' (تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا) سننا چاہتا ہوں۔
شاعر یہاں اپنے نازک دل کی بے باک شوخی اور والہانہ جرات پر مسکرا رہا ہے۔ ’لن ترانی‘ (تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا) کوہِ طور کا وہ معروف تلمیحی اشارہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کی دید کی خواہش پر نفی کا جواب ملا تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا دل اگرچہ بے حد چھوٹا اور حقیر ہے، مگر اس کی آرزو اس قدر بلند ہے کہ وہ محبوب کی بارگاہ میں وہی ناممکن التجا دہرا کر اس کے جلوے کا احساس پانا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
