“I am a guest for but a fleeting breath, O friends of the gathering; like a lamp at dawn, I am about to fade away.”
اے محفل والو! میں بس چند لمحوں کا مہمان ہوں، صبح کے اس چراغ کی طرح ہوں جو اب بجھنے ہی والا ہے۔
اس خوبصورت اور پرتاثیر شعر میں شاعر زندگی کی محفل سے رخصت ہوتے ہوئے خود کو صبح کے چراغ سے تشبیہ دے رہا ہے۔ جیسے رات بھر جلنے والا دیا پو پھٹتے ہی خاموشی سے بجھنے کے قریب ہوتا ہے، ویسے ہی شاعر کا وقت بھی اب تمام ہونے کو ہے۔ یہاں موت یا جدائی کا خوف نہیں، بلکہ اپنے آخری لمحوں کا ایک بے حد پرسکون، باوقار اور دل کو چھو لینے والا اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
