“Be it cruelty, or a promise to unveil without disguise—I desire something that puts my patience to the test.”
چاہے مجھ پر ظلم ہو یا بے نقاب سامنے آنے کا وعدہ، میں کوئی ایسی بات چاہتا ہوں جو میرے صبر کا امتحان لے۔
شاعر یہاں بے کیفی اور جمود سے تنگ آ چکا ہے اور چاہتا ہے کہ دل کی دنیا میں کوئی ایسا طوفان اٹھے جو روح کو جھنجھوڑ دے۔ محبوب خواہ ستم ڈھائے یا پھر بے پردہ ہو کر دیدار کرانے کا وعدہ، دونوں ہی صورتوں میں دل کو بے تابانہ صبر سے گزرنا پڑے گا۔ دراصل یہ عاشق کی وہ خواہش ہے جو خاموش بے حسی کے مقابلے میں درد یا شدید انتظار کی لذت کو ترجیح دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
