غزل
ताज़ा फिर दानिश-ए-हाज़िर ने किया सेहर-ए-क़दीम
ताज़ा फिर दानिश-ए-हाज़िर ने किया सेहर-ए-क़दीम
یہ غزل بتاتی ہے کہ حاضر کی دانائی نے قدیم علم کو تازہ کر دیا ہے۔ اس میں زندگی کے بدلتے ہوئے چہرے، عشق کی پیچیدگی اور سفر کے تجربات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ انسان کے ذہن کی چنچلگی اور کہیں بھی ٹھہر نہ سکنے کی بات کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ताज़ा फिर दानिश-ए-हाज़िर ने किया सेहर-ए-क़दीम
गुज़र इस अहद में मुमकिन नहीं बे-चोब-ए-कलीम
تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
تازہ دانشِ حاضر نے قدیم کی صبح کو गुज़ारنا، اس عہد میں قلم کے بغیر ممکن نہیں کیا ہے۔
2
अक़्ल अय्यार है सौ भेस बना लेती है
इश्क़ बेचारा न मुल्ला है न ज़ाहिद न हकीम
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے، نہ زاہد نہ حکیم
عقل ایک چنچل چیز ہے جو بہت سے روپ اختیار کرتی ہے، مگر عشق بیچارہ نہ عالم ہے نہ زاہد نہ حکیم۔
3
ऐश-ए-मंज़़िल है ग़रीबान-ए-मोहब्बत पे हराम
सब मुसाफ़िर हैं ब-ज़ाहिर नज़र आते हैं मुक़ीम
عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں بظاہر نظر آتے ہیں مقیم
منزل کی نشہ غریب عاشق کے لیے حرام ہے، کیونکہ تمام مسافر باہر سے رہائشی نظر آتے ہیں۔
4
है गराँ-सैर ग़म-ए-राहीला-ओ-ज़ाद से तू
कोह ओ दरिया से गुज़र सकते हैं मानिंद-ए-नसीम
ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند نسیم
اے پیارے مسافر، تم اپنے رخصت کے غم کے ساتھ پہاڑوں اور دریاؤں سے کیسے گزر سکتے ہو، جیسے ایک ہلکی ہوا سے گزرتے ہیں؟
5
मर्द-ए-दरवेश का सरमाया है आज़ादी ओ मर्ग
है किसी और की ख़ातिर ये निसाब-ए-ज़र-ओ-सीम
مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم
درवेश جیسے آدمی کی دولت آزادی اور موت ہے؛ یہ سونے اور زنجیروں کا مجموعہ کسی اور کے لیے ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
