غزل
शुऊर ओ होश ओ ख़िरद का मोआमला है अजीब
शुऊर ओ होश ओ ख़िरद का मोआमला है अजीब
یہ غزل شعور، ہوش، اور خرد کے عجیب معاملات پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر بیان کرتے ہیں کہ دل اور نگاہیں شوق اور دنیاوی مسرّتوں میں کیسے مشغول ہو جاتی ہیں۔ یہ نظم اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ فانی خوشیوں کی پیروی میں انسان بڑے حقائق، جیسے کہ جماعت کا حشر، سے غافل ہو جاتا ہے۔
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
शुऊर ओ होश ओ ख़िरद का मोआमला है अजीब
मक़ाम-ए-शौक़ में हैं सब दिल ओ नज़र के रक़ीब
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب، / مقامِ شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب۔
2
मैं जानता हूँ जमाअत का हश्र क्या होगा
मसाइल-ए-नज़री में उलझ गया है ख़तीब
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا، مگر خطیب مسائلِ نظریے میں الجھا ہوا ہے۔
3
अगरचे मेरे नशेमन का कर रहा है तवाफ़
मिरी नवा में नहीं ताइर-ए-चमन का नसीब
اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف
مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب
اگرچہ وہ میرے دل میں ایک پریکرما کر رہا ہے، میرے نصیب میں میں باغ کے پرندے کی طرح نہیں ہوں۔
4
सुना है मैं ने सुख़न-रस है तुर्क-ए-उस्मानी
सुनाए कौन उसे 'इक़बाल' का ये शेर-ए-ग़रीब
سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی
سنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعر غریب
سمنا ہے میں نے سُخن-رَس ہے ترکِ عثمانی، سنائے کون اسے 'اقبال' کا یہ شعرِ غریب
5
समझ रहे हैं वो यूरोप को हम-जवार अपना
सितारे जिन के नशेमन से हैं ज़ियादा क़रीब
سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ یورپ سے متعلق ہیں، جبکہ ہم وہ ستارے ہیں جو نور کے گھر کے زیادہ قریب ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
