غزل

पूछ उस से कि मक़्बूल है फ़ितरत की गवाही

पूछ उस से कि मक़्बूल है फ़ितरत की गवाही
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل انسان کے فطری کردار اور اس کے عمل پر مبنی حقیقت پسندی کا تجزیہ کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کسی شخص کا اصلی کردار نہ اس کی وابستگی سے ہے اور نہ اس کی شناخت سے، بلکہ اس کے طرزِ عمل اور اصولوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ شاعر مشورہ دیتا ہے کہ کسی کے سچے وجود کی تصدیق اس سے کرنی چاہیے جو سب سے قریب ہو۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पूछ उस से कि मक़्बूल है फ़ितरत की गवाही तू साहिब-ए-मंज़िल है कि भटका हुआ राही
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی
اس سے پوچھ کہ کیا فطرت کی گواہی مَقبول ہے، یا تو صاحبِ منزل ہے یا بھٹکا ہوا راہی۔
2
काफ़िर है मुसलमाँ तो न शाही न फ़क़ीरी मोमिन है तो करता है फ़क़ीरी में भी शाही
کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی
اگر مسلمان کافر ہے تو نہ شاہی ہے نہ فقری؛ مومن ہے تو فقری میں بھی شاہی ہے۔
3
काफ़िर है तो शमशीर पे करता है भरोसा मोमिन है तो बे-तेग़ भी लड़ता है सिपाही
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اگر وہ کافر ہے تو وہ شمشیر پر بھروسہ کرتا ہے؛ مومن ہے تو وہ بے لگام سپاہی کی طرح لڑتا ہے۔
4
काफ़िर है तो है ताबा-ए-तक़दीर मुसलमाँ मोमिन है तो वो आप है तक़दीर-ए-इलाही
کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی
اگر وہ کافر ہے تو وہ مسلمان کی تقدیر کا تبا ہے، اور اگر وہ مومن ہے تو وہ آپ (خدا) کی تقدیر-اے-الٰہی ہیں۔
5
मैं ने तो किया पर्दा-ए-असरार को भी चाक देरीना है तेरा मरज़-ए-कोर-निगाही
میں نے تو کیا پردۂ اسرار کو بھی چاک دیرینہ ہے تیرا مرض کور نگاہی
میں نے تو کیا پردہ-ए-اسرار کو بھی چاک-देरीना ہے، تیرا مرض-ए-کور-نگاہی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.