غزل
न तख़्त-ओ-ताज में ने लश्कर-ओ-सिपाह में है
न तख़्त-ओ-ताज में ने लश्कर-ओ-सिपाह में है
یہ غزل بتاتی ہے کہ حقیقی علم یا طاقت نہ تو تخت و تاج میں ہے، نہ ہی لشکر و سپاہ میں۔ بلکہ، یہ اس بات میں ہے جو ایک سچے اور بے باک شخص (مردِ کلندر) کی بارگاہ میں ہے۔ یہ نظم بتاتی ہے کہ کمالِ حقیقت اور ذاتِ باری تعالیٰ کی عظمت کسی بیرونی دکھاوے یا مادی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न तख़्त-ओ-ताज में ने लश्कर-ओ-सिपाह में है
जो बात मर्द-ए-क़लंदर की बारगाह में है
نہ تخت و تاج میں ہے نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ کلندر کی بارگاہ میں ہے۔
2
सनम-कदा है जहाँ और मर्द-ए-हक़ है ख़लील
ये नुक्ता वो है कि पोशीदा ला-इलाह में है
سنم، یہ بتاؤ کہ جہاں اور مردِ حق، خلیل، کہاں ہے؟ یہ نقطہ 'لا الہ' میں چھپا ہوا ہے۔
3
वही जहाँ है तिरा जिस को तू करे पैदा
ये संग-ओ-ख़िश्त नहीं जो तिरी निगाह में है
وہیں جگہ ہے جہاں سے تم پیدا کرتی ہو، یہ تمہاری نگاہ میں ساتھ یا دھول نہیں ہے۔
4
मह ओ सितारा से आगे मक़ाम है जिस का
वो मुश्त-ए-ख़ाक अभी आवारगान-ए-राह में है
جس کا مقام چاند اور ستارے سے آگے ہے، اس کا مٹھی بھر کی دھول ابھی راستے پر بھٹک رہا ہے۔
5
ख़बर मिली है ख़ुदायान-ए-बहर-ओ-बर से मुझे
फ़रंग रहगुज़र-ए-सैल-ए-बे-पनाह में है
مجھے خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے کہ فَرنگ رہگزرِ سیلِ بے پناہ میں ہے
6
तलाश उस की फ़ज़ाओं में कर नसीब अपना
जहान-ए-ताज़ा मिरी आह-ए-सुब्ह-गाह में है
اس کی فضاؤں میں اپنا نصیب تلاش کر، کیونکہ جہاںِ تازگی میری صبح جیسی آہ میں ہے۔
7
मिरे कदू को ग़नीमत समझ कि बादा-ए-नाब
न मदरसे में है बाक़ी न ख़ानक़ाह में है
میرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب۔ نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
