Sukhan AI
غزل

ख़ुदी हो इल्म से मोहकम तो ग़ैरत-ए-जिब्रील

ख़ुदी हो इल्म से मोहकम तो ग़ैरत-ए-जिब्रील
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ اگر خود کو علم سے مضبوط کیا جائے تو غیریتِ جبرئیل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ شاعر اپنے کلام کے اندر علم کے اذاب اور گہری سچائیوں سے آگاہ ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़ुदी हो इल्म से मोहकम तो ग़ैरत-ए-जिब्रील अगर हो इश्क़ से मोहकम तो सूर-ए-इस्राफ़ील
اگر تیری ذات علم سے مضبوط ہے تو وہ غیریتِ جبرئیل ہے؛ اگر یہ عشق سے مضبوط ہے تو یہ سورِ اسرافیل ہے۔
3
फ़रेब-ख़ुर्दा-ए-मंज़िल है कारवाँ वर्ना ज़ियादा राहत-ए-मंज़िल से है नशात-ए-रहील
منزل کی خوشبو محض ایک فریب ہے، کیونکہ منزل کے سکون کا نشہ سفر کے جوش و خروش سے کم نہیں ہوتا۔
4
नज़र नहीं तो मिरे हल्क़ा-ए-सुख़न में न बैठ कि नुक्ता-हा-ए-ख़ुदी हैं मिसाल-ए-तेग़-ए-असील
اگر تم نہیں دیکھو گے تو میرے کعبےِ سخن میں نہیں بیٹھیں گے، کیونکہ خودی کے نقطے ایک خالص تلوار کی دھار کی مثال ہیں۔
6
अँधेरी शब है जुदा अपने क़ाफ़िले से है तू तिरे लिए है मिरा शोला-ए-नवा क़िंदील
اندھیری شب ہے اور تم اپنے قافلے سے جدا ہو؛ تیرے لیے، میرا شعلہ-ए-नवा ہی قندیل ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.