غزل
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
یہ غزل خود آگاہی، روحانی بیداری اور عشقِ حقیقی کی وسعتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ علامہ اقبال واضح کرتے ہیں کہ محض فکری و فلسفیانہ موشگافیوں کے بجائے سچی لگن اور آہِ سحرگاہی ہی انسان کو بندگی و غلامی سے نکال کر باطنی شہنشاہی کے اسرار و رموز عطا کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
जब इश्क़ सिखाता है आदाब-ए-ख़ुद-आगाही
खुलते हैं ग़ुलामों पर असरार-ए-शहंशाही
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
جب عشق انسان کو خود شناسی کے آداب سکھاتا ہے، تو غلاموں پر بھی بادشاہی کے راز کھل جاتے ہیں۔
2
'अत्तार' हो 'रूमी' हो 'राज़ी' हो 'ग़ज़ाली' हो
कुछ हाथ नहीं आता बे-आह-ए-सहर-गाही
عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی
خواہ کوئی عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو یا غزالی، صبح کے وقت کی آہ اور دعا کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
3
नौमीद न हो इन से ऐ रहबर-ए-फ़रज़ाना
कम-कोश तो हैं लेकिन बे-ज़ौक़ नहीं राही
نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
اے عقل مند رہنما! ان مسافروں سے ناامید مت ہو، اگرچہ ان کی محنت و کوشش کم ہے لیکن یہ ذوق اور جذبے سے محروم نہیں ہیں۔
4
ऐ ताइर-ए-लाहूती उस रिज़्क़ से मौत अच्छी
जिस रिज़्क़ से आती हो पर्वाज़ में कोताही
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
اے آسمانی پرندے! اس رزق سے تو موت بہتر ہے جس کے ملنے سے تیری اونچی پرواز میں کمی یا رکاوٹ آئے۔
5
दारा ओ सिकंदर से वो मर्द-ए-फ़क़ीर औला
हो जिस की फ़क़ीरी में बू-ए-असदूल-लाही
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی
دارا اور سکندر جیسے بادشاہوں سے وہ فقیر کہیں افضل اور برتر ہے جس کی فقیری میں شیرِ خدا (حضرت علی) کی خوشبو موجود ہو۔
6
आईन-ए-जवाँ-मर्दां हक़-गोई ओ बे-बाकी
अल्लाह के शेरों को आती नहीं रूबाही
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حق بولنا اور بے خوف ہونا بہادر مردوں کا شیوہ اور اصول ہے، اللہ کے شیروں کو لومڑی جیسی مکاری اور بزدلی نہیں آتی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
