“O heavenly bird, far better is death than that sustenance which brings a faltering to your flight.”
اے آسمانی پرندے! اس رزق سے تو موت بہتر ہے جس کے ملنے سے تیری اونچی پرواز میں کمی یا رکاوٹ آئے۔
علامہ اقبال انسان کے بلند ضمیر اور روح کو ایک ایسے آسمانی پرندے سے تشبیہ دیتے ہیں، جس کا اصل مسکن لامتناہی بلندیاں ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ ایسی آسائش یا روزی جو انسان سے اس کی خودداری، غیرت اور فکر کی آزادی چھین لے، وہ دراصل نعمت نہیں بلکہ ایک پھندا ہے۔ ایک باوقار اور زندہ دل انسان کے لیے سمجھوتوں کی غلامانہ زندگی سے وہ موت کہیں بہتر ہے جس میں اس کے کردار کی پرواز سلامت رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
