“Despair not of them, O wise guide; slack though their effort may be, these travelers are not devoid of passion.”
اے عقل مند رہنما! ان مسافروں سے ناامید مت ہو، اگرچہ ان کی محنت و کوشش کم ہے لیکن یہ ذوق اور جذبے سے محروم نہیں ہیں۔
اس شعر میں شاعر ایک دانش مند رہنما کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ چلنے والے مسافروں کی سست روی دیکھ کر ہرگز مایوس نہ ہو۔ اگرچہ ان کی محنت اور کوشش میں فی الحال کچھ کمی ضرور ہے، لیکن ان کے دلوں میں منزل کی سچی لگن اور تڑپ ابھی مری نہیں۔ یہ دراصل امید کا ایک خوبصورت پیغام ہے کہ جب تک سینے میں شوق کی چنگاری زندہ ہے، مسافر دیر سویر اپنی منزل پا ہی لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
