“Be it Attar, Rumi, Razi, or Ghazali—nothing is attained without the sigh of dawn.”
خواہ کوئی عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو یا غزالی، صبح کے وقت کی آہ اور دعا کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
علامہ اقبال نے یہاں تصوف، فلسفے اور علم و دانش کی چار عظیم ترین ہستیوں کا ذکر کر کے یہ خوبصورت نکتہ سمجھایا ہے کہ محض کتابی علم انسان کو باطنی سچائی تک نہیں پہنچا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنے ہی بڑے فلسفی یا عالم بن جائیں، جب تک صبحِ صادق کے پُرسکون لمحوں میں خدا کے حضور دل سے تڑپ اور آہ نہ نکلے، معرفت ہاتھ نہیں آتی۔ اصل روحانی فیض اور زندگی کا اصل جوہر رات کے آخری پہر کے خلوص، عاجزی اور سچے آنسوؤں سے ہی نصیب ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
