“Far nobler than Darius and Alexander is that mendicant dervish, within whose poverty breathes the fragrance of the Lion of God.”
دارا اور سکندر جیسے بادشاہوں سے وہ فقیر کہیں افضل اور برتر ہے جس کی فقیری میں شیرِ خدا (حضرت علی) کی خوشبو موجود ہو۔
علامہ اقبال اس شعر میں دنیاوی جاہ و جلال کے علمبرداروں، دارا اور سکندر کے مقابلے میں ایک سچے درویش کی عظمت بیان کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ظاہری بادشاہت سے کہیں برتر وہ قلندر ہے جس کی سادگی اور فقیری میں حضرت علیؓ یعنی شیرِ خدا جیسی خودداری، شجاعت اور روحانی خوشبو رچی بسی ہو۔ اصل سلطنت زمینیں فتح کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے دل اور روح کو دنیاوی لالچ سے آزاد کر کے خدا کے قریب ہونے میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
