غزل
इक दानिश-ए-नूरानी इक दानिश-ए-बुरहानी
इक दानिश-ए-नूरानी इक दानिश-ए-बुरहानी
غزل دو قسم کے علموں، یعنی نورانی اور برہانی، کے تضاد پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاعر اپنی زندگی کی پیچیدگیوں اور مشکل حالات کا اظہار کرتے ہوئے، محبت اور وجود کے راز پر غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کی গভীরতা کا اظہار کرتے ہوئے، یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کسی بات کو صرف تکرار سے نقش کرنا مفید ہے، اور کیا محبوب کو محض ایک انسانی التجا سے خوشی ملتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इक दानिश-ए-नूरानी इक दानिश-ए-बुरहानी
है दानिश-ए-बुरहानी हैरत की फ़रावानी
ایک دانشِ نوری ہے اور ایک دانشِ بُرهانی؛ دانشِ بُرهانی ہی ہے حیرت کی فراوانی۔
2
इस पैकर-ए-ख़ाकी में इक शय है सो वो तेरी
मेरे लिए मुश्किल है इस शय की निगहबानी
اس خاکی میں کوئی چیز ہے جو تمہاری ہے، اور اس چیز کی نگرانی میرے لیے مشکل ہے۔
3
अब क्या जो फ़ुग़ाँ मेरी पहुँची है सितारों तक
तू ने ही सिखाई थी मुझ को ये ग़ज़ल-ख़्वानी
اب کیا جو فغاں میری ستاروں تک پہنچی ہے، تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی۔
4
हो नक़्श अगर बातिल तकरार से क्या हासिल
क्या तुझ को ख़ुश आती है आदम की ये अर्ज़ानी
اگر بات ہی باطل ہے، تو یہ جھگڑا سے کیا حاصل؟ کیا آدم کی یہ سستی گزارش تمہیں خوش کرتی ہے؟
5
मुझ को तो सिखा दी है अफ़रंग ने ज़िंदीक़ी
इस दौर के मुल्ला हैं क्यूँ नंग-ए-मुसलमानी
مجھے تو آفرنگ نے زندگی گزارنا سکھا دیا ہے؛ اس دور کے علماء کیوں ننگے-امسلمانی ہیں۔
6
तक़दीर शिकन क़ुव्वत बाक़ी है अभी इस में
नादाँ जिसे कहते हैं तक़दीर का ज़िंदानी
اس میں ابھی بھی تقدیر کی طاقت باقی ہے، ناداں جسے تقدیر کہتے ہیں وہ تو بس ایک قید خانے ہے۔
7
तेरे भी सनम-ख़ाने मेरे भी सनम-ख़ाने
दोनों के सनम ख़ाकी दोनों के सनम फ़ानी
تیرے بھی صنم خانے میرے بھی صنم خانے، دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
