تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں — علامہ اقبال
تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی
“The destiny still holds strength within it, The one who calls it destiny is merely trapped.”
— علامہ اقبال
معنی
اس میں ابھی بھی تقدیر کی طاقت باقی ہے، ناداں جسے تقدیر کہتے ہیں وہ تو بس ایک قید خانے ہے۔
تشریح
یہ شعر ہمیں تقدیر پر অন্ধ اعتماد کرنے سے روکتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ تقدیر کی گرفت اب کمزور ہو چکی ہے، اور جو لوگ اسے مکمل طاقت مانتے ہیں، وہ خود کو ایک جھوٹی قید خانے میں سمجھے بیٹھے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
