غزل

गेसू-ए-ताबदार को और भी ताबदार कर

गेसू-ए-ताबदार को और भी ताबदार कर
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل کسی کے پہلے سے ہی چمکدار حسن اور تاثرات کو مزید تابناک بنانے کی بات کرتی ہے۔ اس میں عشق اور کشش کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ یا تو محبوب اپنے جذبات کا اظہار کرے یا شاعر کے دل اور نگاہوں کو اپنا نشانہ بنائے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
गेसू-ए-ताबदार को और भी ताबदार कर होश ओ ख़िरद शिकार कर क़ल्ब ओ नज़र शिकार कर
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر
گیسو-ئے تابدار کو اور بھی تابدار کر، ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر۔ (مطلب: جو زلفیں پہلے سے ہی چمکدار ہیں، انہیں مزید چمکدار بناؤ؛ ہوشیاری اور عقل سے دل اور نگاہ کو شکار بناؤ۔)
2
इश्क़ भी हो हिजाब में हुस्न भी हो हिजाब में या तो ख़ुद आश्कार हो या मुझे आश्कार कर
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
چاہے عشق حجاب میں ہو یا حسن حجاب میں، یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر۔
3
तू है मुहीत-ए-बे-कराँ मैं हूँ ज़रा सी आबजू या मुझे हम-कनार कर या मुझे बे-कनार कर
تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
آپ بے کنار ساحلوں سے بھرے ہوئے ہیں؛ میں تو بس ایک چھوٹی سی ندی ہوں۔ یا مجھے کنارے سے باندھ دو، یا مجھے بے کنار کر دو۔
4
मैं हूँ सदफ़ तो तेरे हाथ मेरे गुहर की आबरू मैं हूँ ख़ज़फ़ तो तू मुझे गौहर-ए-शाहवार कर
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو میں ہوں خذف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
اگر میں صدف ہوں تو میرے ہاتھ تیرے ہیں، میرے جواہر کی رونق ہیں؛ اور اگر میں خضاب ہوں تو مجھے شاہی جواہر کا شاندار موتی بنا دے۔
5
नग़्मा-ए-नौ-बहार अगर मेरे नसीब में न हो उस दम-ए-नीम-सोज़ को ताइरक-ए-बहार कर
نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر
اگر نو بہاروں کا نغمہ میرے نصیب میں نہ ہو، تو اس دمِ نیم سوز کو بہار کا موسم بنا دے۔
6
बाग़-ए-बहिश्त से मुझे हुक्म-ए-सफ़र दिया था क्यूँ कार-ए-जहाँ दराज़ है अब मिरा इंतिज़ार कर
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
بامعصوم باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں؟ کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر۔
7
रोज़-ए-हिसाब जब मिरा पेश हो दफ़्तर-ए-अमल आप भी शर्मसार हो मुझ को भी शर्मसार कर
روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
جب روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفترِ عمل، آپ بھی شرم سار ہو مجھ کو بھی شرم سار کر
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.