Sukhan AI
غزل

दिल-ए-बेदार फ़ारूक़ी दिल-ए-बेदार कर्रारी

दिल-ए-बेदार फ़ारूक़ी दिल-ए-बेदार कर्रारी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل روحانی اور محبت کے جذبات کا امتزاج ہے، جس میں شاعر کو گہرے خود انک샤پ کی طرف بڑھتے ہوئے اپنے دل کو بیدار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس میں زور دیا گیا ہے کہ سچی محبت اور شعوری بیداری حاصل کرنے کے لیے، بیرونی ظاہری شکل یا اندازوں پر نہیں، بلکہ اپنے اندر کی داخلی قوت اور جدوجہد پر توجہ دینا ضروری ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल-ए-बेदार फ़ारूक़ी दिल-ए-बेदार कर्रारी मिस-ए-आदम के हक़ में कीमिया है दिल की बेदारी
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کراری، مِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری۔ (مطلب: فاروقی کا بیدار دل اور کراری کا بیدار دل، انسانیت کے حق میں دل کی ہوشیاری کا کیمیا ہے۔)
3
मशाम-ए-तेज़ से मिलता है सहरा में निशाँ उस का ज़न ओ तख़मीं से हाथ आता नहीं आहू-ए-तातारी
तेज़ हवा के झोंके से सहरा में उस का निशान मिल जाता है، مگر زن و تخمّین سے تاتاری کی آہ نہیں ملتی۔
4
इस अंदेशे से ज़ब्त-ए-आह मैं करता रहूँ कब तक कि मुग़-ज़ादे न ले जाएँ तिरी क़िस्मत की चिंगारी
اس اداس خیال سے میں اپنی آہوں کو کب تک باندھے رہوں، کہیں مغل وراثت کی میری قسمت کی چنگاری نہ لے جائیں۔
5
ख़ुदावंदा ये तेरे सादा-दिल बंदे किधर जाएँ कि दरवेशी भी अय्यारी है सुल्तानी भी अय्यारी
اے خداوند، یہ تیرے سادہ دل بندے کہاں جائیں؟ کہ درویشی بھی ایّاری ہے اور سلطانی بھی ایّاری۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

दिल-ए-बेदार फ़ारूक़ी दिल-ए-बेदार कर्रारी | Sukhan AI