मशाम-ए-तेज़ से मिलता है सहरा में निशाँ उस का
ज़न ओ तख़मीं से हाथ आता नहीं आहू-ए-तातारी
“From the harsh blow of the wind, a trace of their mark is found in the desert, But from the hand of womanhood and guessing, the cry of the Tātārī is not attained.”
— علامہ اقبال
معنی
तेज़ हवा के झोंके से सहरा में उस का निशान मिल जाता है، مگر زن و تخمّین سے تاتاری کی آہ نہیں ملتی۔
تشریح
یہ شعر یادوں کی بے ثباتی اور کھوئے ہوئے لمحات کو دوبارہ پانے کی جدوجہد پر بات کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کا نشان شام کی رونق میں نہیں، بلکہ صحرا کی ویرانی میں ملتا ہے۔ یہ ایک گہرا احساس ہے کہ قید و خیال سے بھی محبوب کا ہاتھ نہیں آ سکتا۔
