Sukhan AI
غزل

अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं

अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers

یہ نظم بتاتی ہے کہ شاعر نے اپنی زندگی کے تجربات کو ایک محدود دائرے تک سمجھا تھا۔ وہ اپنی دنیا کو صرف آب و گُل کے کھیل یا کسی خاص رشتے کے وہم تک محدود سمجھ بیٹھا تھا، جبکہ دراصل اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آخر میں، اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا عشق اور زندگی کا تجربہ بہت گہرا اور بے پایاں ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं आब ओ गिल के खेल को अपना जहाँ समझा था मैं
میں نے اپنی چھوٹی سی جگہ کو آسمان کے نیچے سمجھا تھا، اور پانی و مٹی کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا۔
2
बे-हिजाबी से तिरी टूटा निगाहों का तिलिस्म इक रिदा-ए-नील-गूँ को आसमाँ समझा था मैं
بے حجابی سے تیری ٹوٹا نگاہوں کا جادو؛ میں ایک نیلمے لباس میں لپٹی شکل کو آسمان سمجھ بیٹھا تھا۔
3
कारवाँ थक कर फ़ज़ा के पेच-ओ-ख़म में रह गया मेहर ओ माह ओ मुश्तरी को हम-इनाँ समझा था मैं
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا، میں محبوب چاند اور سیاروں کو اپنا سمجھا تھا۔
4
इश्क़ की इक जस्त ने तय कर दिया क़िस्सा तमाम इस ज़मीन ओ आसमाँ को बे-कराँ समझा था मैं
محبت کے ایک دھاگے نے پوری کہانی طے کر دی، حالانکہ میں اس زمین و آسمان کو بے کراں سمجھتا تھا۔
6
थी किसी दरमाँदा रह-रौ की सदा-ए-दर्दनाक जिस को आवाज़-ए-रहील-ए-कारवाँ समझा था मैं
یہ کسی دیوانے عورت کی دردناک آواز تھی، جسے میں ایک گھومتے ہوئے کارواں کی آواز سمجھ رہا تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं | Sukhan AI