غزل
अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं
अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं
یہ نظم بتاتی ہے کہ شاعر نے اپنی زندگی کے تجربات کو ایک محدود دائرے تک سمجھا تھا۔ وہ اپنی دنیا کو صرف آب و گُل کے کھیل یا کسی خاص رشتے کے وہم تک محدود سمجھ بیٹھا تھا، جبکہ دراصل اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آخر میں، اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا عشق اور زندگی کا تجربہ بہت گہرا اور بے پایاں ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अपनी जौलाँ-गाह ज़ेर-ए-आसमाँ समझा था मैं
आब ओ गिल के खेल को अपना जहाँ समझा था मैं
میں نے اپنی چھوٹی سی جگہ کو آسمان کے نیچے سمجھا تھا، اور پانی و مٹی کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا۔
2
बे-हिजाबी से तिरी टूटा निगाहों का तिलिस्म
इक रिदा-ए-नील-गूँ को आसमाँ समझा था मैं
بے حجابی سے تیری ٹوٹا نگاہوں کا جادو؛ میں ایک نیلمے لباس میں لپٹی شکل کو آسمان سمجھ بیٹھا تھا۔
3
कारवाँ थक कर फ़ज़ा के पेच-ओ-ख़म में रह गया
मेहर ओ माह ओ मुश्तरी को हम-इनाँ समझा था मैं
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا، میں محبوب چاند اور سیاروں کو اپنا سمجھا تھا۔
4
इश्क़ की इक जस्त ने तय कर दिया क़िस्सा तमाम
इस ज़मीन ओ आसमाँ को बे-कराँ समझा था मैं
محبت کے ایک دھاگے نے پوری کہانی طے کر دی، حالانکہ میں اس زمین و آسمان کو بے کراں سمجھتا تھا۔
5
कह गईं राज़-ए-मोहब्बत पर्दा-दारी-हा-ए-शौक़
थी फ़ुग़ाँ वो भी जिसे ज़ब्त-ए-फ़ुग़ाँ समझा था मैं
کہ گئیں رازِ محبت، پردہ داری ہائے شوق، تھی فغاں وہ بھی جسے زبُتِ فغاں سمجھا تھا میں
6
थी किसी दरमाँदा रह-रौ की सदा-ए-दर्दनाक
जिस को आवाज़-ए-रहील-ए-कारवाँ समझा था मैं
یہ کسی دیوانے عورت کی دردناک آواز تھی، جسے میں ایک گھومتے ہوئے کارواں کی آواز سمجھ رہا تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
