غزل
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
یہ غزل ایک عاشق کی گہری تکلیف اور آزمائشوں کو دل چھو لینے والے انداز میں بیان کرتی ہے، جہاں اس کا قابلِ بھروسہ رازداں بھی محبوب کی محبت کے لیے رقیب بن جاتا ہے۔ شاعر محبوب کی بے رخی اور بظاہر توہین کو ثابت قدمی سے برداشت کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک مشترکہ شناسا میں عجیب سکون پاتا ہے۔ یہ دنیاوی حدود سے ماورا، ایک حتمی، آسمانی وصل کی آرزو کا بھی اظہار کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ज़िक्र उस परी-वश का और फिर बयाँ अपना
बन गया रक़ीब आख़िर था जो राज़-दाँ अपना
اس پری وش محبوبہ کا ذکر اور پھر میرے اپنے بیانات، بالآخر میرے رازداں کو ہی رقیب بنا دیا۔
2
मय वो क्यूँ बहुत पीते बज़्म-ए-ग़ैर में या रब
आज ही हुआ मंज़ूर उन को इम्तिहाँ अपना
یا رب، انہوں نے غیر کی محفل میں اتنی مے کیوں پی؟ آج ہی تو انہوں نے میری آزمائش کو منظور کیا ہے۔
3
मंज़र इक बुलंदी पर और हम बना सकते
अर्श से उधर होता काश के मकाँ अपना
ہم ایک اور اونچائی پر ایک اور منظر بنا سکتے تھے، کاش ہمارا مکان عرش سے بھی پرے ہوتا۔
4
दे वो जिस क़दर ज़िल्लत हम हँसी में टालेंगे
बारे आश्ना निकला उन का पासबाँ अपना
وہ جتنی ذلت چاہیں دیں، ہم اسے ہنسی میں ٹال دیں گے۔ آخرکار، ان کا پاسبان اپنا واقف نکلا۔
5
दर्द-ए-दिल लिखूँ कब तक जाऊँ उन को दिखला दूँ
उँगलियाँ फ़िगार अपनी ख़ामा ख़ूँ-चकाँ अपना
میں اپنے دل کا درد کب تک لکھوں؟ کیا مجھے ان کے پاس جا کر انھیں یہ سب دکھا دینا چاہیے، کیونکہ میری انگلیاں زخمی ہو چکی ہیں اور میرا قلم خون ٹپکا رہا ہے۔
6
घिसते घिसते मिट जाता आप ने अबस बदला
नंग-ए-सज्दा से मेरे संग-ए-आस्ताँ अपना
آپ کی آستانے کا پتھر میرے مسلسل سجدوں سے گھستے گھستے ختم ہو جاتا۔ آپ نے میرے سجدوں کی شرمندگی سے بچنے کے لیے اسے بے فائدہ بدل دیا۔
7
ता करे न ग़म्माज़ी कर लिया है दुश्मन को
दोस्त की शिकायत में हम ने हम-ज़बाँ अपना
تاکہ وہ غمازی نہ کرے، ہم نے اپنے دشمن کو دوست کی شکایت کرتے ہوئے اپنا ہم زباں بنا لیا ہے۔
8
हम कहाँ के दाना थे किस हुनर में यकता थे
बे-सबब हुआ 'ग़ालिब' दुश्मन आसमाँ अपना
ہم نہ تو زیادہ سمجھدار تھے اور نہ ہی کسی ہنر میں بے مثال تھے۔ پھر بھی، غالب، بلاوجہ آسمان (تقدیر) ہمارا دشمن بن گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
