दर्द-ए-दिल लिखूँ कब तक जाऊँ उन को दिखला दूँ
उँगलियाँ फ़िगार अपनी ख़ामा ख़ूँ-चकाँ अपना
“How long shall I write of my heart's deep ache?Should I not go and show them, for goodness' sake?My fingers are wounded, my hand torn and raw,My pen, it drips blood, defying all law.”
— مرزا غالب
معنی
میں اپنے دل کا درد کب تک لکھوں؟ کیا مجھے ان کے پاس جا کر انھیں یہ سب دکھا دینا چاہیے، کیونکہ میری انگلیاں زخمی ہو چکی ہیں اور میرا قلم خون ٹپکا رہا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
