غزل

صفائے حیرتِ آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر

صفائے حیرتِ آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: आख़िर

یہ غزل وجود کی متضاد فطرت کو بیان کرتی ہے، جہاں ٹھہراؤ اور پاکیزگی بھی بالآخر زنگ اور زوال کا سبب بنتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ آئینے کی شفافیت بھی کیسے زنگ کا سامان بن جاتی ہے اور ٹھہرا ہوا پانی بالآخر اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ یہ دنیاوی لذتوں اور رتبے کی اندرونی بے چینی کو کم کرنے کی ناکامی پر روشنی ڈالتی ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح عیش و عشرت بھی باطنی بے سکونی کو نمایاں کر سکتی ہے۔ آخر میں، شاعر نئے چاند کی طرح خالی پن اور عاجزی کی حالت اپنانے کا مشورہ دیتا ہے، کیونکہ زیادہ جمع کرنا، پورے چاند کی طرح، بالآخر تنگی اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
सफ़ा-ए-हैरत-ए-आईना है सामान-ए-ज़ंग आख़िर तग़य्युर आब-ए-बर-जा-मांदा का पाता है रंग आख़िर
صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
آئینے کا حیرت انگیز صاف چہرہ آخرکار زنگ کا سامان بن جاتا ہے، اور ٹھہرا ہوا پانی بالاآخر رنگ پکڑ لیتا ہے۔
2
न की सामान-ए-ऐश-ओ-जाह ने तदबीर वहशत की हुआ जाम-ए-ज़मुर्रद भी मुझे दाग़-ए-पलंग आख़िर
نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
سامانِ عیش و جاہ میری وحشت کا کوئی علاج نہ کر سکے۔ آخرکار، زمرد کا جام بھی مجھے داغِ پلنگ کی طرح لگا۔
3
ख़त-ए-नौ-ख़ेज़ नील-ए-चश्म ज़ख़्म-ए-साफ़ी-ए-आरिज़ लिया आईना ने हिर्ज़-ए-पर-ए-तूती ब-चंग आख़िर
خط نوخیز نیل چشم زخم صافیٔ عارض لیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر
خطِ نوخیز، نیلِ چشم، اور عارض پر ایک صاف زخم—آئینے نے آخر کار ان سب کو اس طرح تھام لیا جیسے طوطے کے پر کا حرز اپنی چنگ میں لے لیا ہو۔
4
हिलाल-आसा तही रह गर कुशादन-हा-ए-दिल चाहे हुआ मह कसरत-ए-सरमाया-अंदाेज़ी से तंग आख़िर
ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
اگر دل کُھلنا چاہے تو اسے ہلال کی طرح خالی رہنا چاہیے۔ آخرکار، پورا چاند اپنی بہت زیادہ دولت کی وجہ سے تنگ ہو گیا۔
5
तड़प कर मर गया वो सैद-ए-बाल-अफ़्शाँ कि मुज़्तर था हुआ नासूर-ए-चश्म-ए-ताज़ियत चश्म-ए-ख़दंग आख़िर
تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا ہوا ناسور چشم تعزیت چشم خدنگ آخر
وہ بے چین، پر پھڑپھڑاتا ہوا شکار تڑپ کر مر گیا۔ بالآخر، تیر کا زخم غم کی آنکھ میں ایک ناسور بن گیا۔
6
लिखी यारों की बद-मस्ती ने मयख़ाने की पामाली हुइ क़तरा-फ़िशानी-हा-ए-मय-बारान-ए-संग आख़िर
لکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالی ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
دوستوں کی بدمستی نے مے خانے کی پامالی لکھی۔ آخرکار شراب کے قطروں کا بکھرنا پتھروں کی بارش بن گیا۔
7
'असद' पर्दे में भी आहंग-ए-शौक़-ए-यार क़ाएम है नहीं है नग़्मे से ख़ाली ख़मीदन-हा-ए-चंग आख़िर
اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
اسد، پردے میں بھی محبوب کی چاہت کی دھن قائم ہے۔ آخر، چنگ کے خم سروں سے خالی نہیں ہوتے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.