غزل
رُخِ نِگار سے ہے سوزِ جاویدانیِ شمع
رُخِ نِگار سے ہے سوزِ جاویدانیِ شمع
یہ غزل، جس کا عنوان "رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع" ہے، ایک شمع (موم بتی) کے استعارے کے ذریعے لازوال محبت اور قربانی کے موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ محبوب کا چہرہ شمع کو اس کی ابدی لو عطا کرتا ہے، جو اپنی خاموش جلن کے ذریعے خود سپردگی کی داستانیں سناتی ہے اور پروانے کی آرزو کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، یوں اپنے نازک وجود کو بھی آشکار کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रुख़-ए-निगार से है सोज़-ए-जावेदानी-ए-शमअ'
हुई है आतिश-ए-गुल आब-ए-ज़ि़ंदगानी-ए-शमअ'
شمع کا دائمی جلنا محبوب کے چہرے سے ہے۔ گلاب کی آتش ہی شمع کا آبِ زندگانی بن گئی ہے۔
2
ज़बान-ए-अहल-ए-ज़बाँ में है मर्ग-ए-ख़ामोशी
ये बात बज़्म में रौशन हुई ज़बानी-ए-शमअ'
اہلِ زباں کی زبان میں خاموشی موت ہے۔ یہ بات بزم میں شمع کی زبانی سے روشن ہوئی۔
3
करे है सर्फ़ ब-ईमा-ए-शो'ला क़िस्सा तमाम
ब-तर्ज़-ए-अहल-ए-फ़ना है फ़साना-ख़्वानी-ए-शमअ'
شمع کی پوری کہانی اس کے شعلے کے اشارے پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ شمع کا قصہ خوانی کا انداز فنا چاہنے والوں جیسا ہے۔
4
ग़म उस को हसरत-ए-परवाना का है ऐ शो'ले
तिरे लरज़ने से ज़ाहिर है ना-तवानी-ए-शमअ'
اے شعلے، پروانے کی حسرت کا غم شمع کو ہے۔ تیرے لرزنے سے شمع کی کمزوری اور ناتوانی ظاہر ہوتی ہے۔
5
तिरे ख़याल से रूह एहतिज़ाज़ करती है
ब-जल्वा-रेज़ी-ए-बाद-ओ-ब-पर-फ़िशानी-ए-शमअ'
ترے خیال سے میری روح خوشی سے لرز اٹھتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہوا کا جلوہ بکھیرنا اور شمع کی لو کا پھڑپھڑانا۔
6
नशात-ए-दाग़-ए-ग़म-ए-इश्क़ की बहार न पूछ
शगुफ़्तगी है शहीद-ए-गुल-ए-खिज़ानी-ए-शमअ'
عشق کے غم کے داغ سے ملنے والی خوشی کی بہار کے بارے میں مت پوچھو؛ اس کی تازگی شمع کے خزاں کے پھول پر قربان ہے۔
7
जले है देख के बालीन-ए-यार पर मुझ को
न क्यूँ हो दिल पे मिरे दाग़-ए-बद-गुमानी-ए-शमअ'
یہ مجھے یار کے تکیے پر دیکھ کر جلتی ہے۔ تو میرے دل پر شمع کی بدگمانی کا داغ کیوں نہ ہو؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
