غزل
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
یہ غزل عشق، کرب اور وجودی معانی کے پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی بے رخی میں ایک متضاد سکون پاتا ہے اور محبت کی خاطر شدید درد اور رشک کو برداشت کرنے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک فلسفیانہ سوچ بھی پیش کرتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی صرف لافانیت میں نہیں بلکہ انسانی تعلقات اور پہچان میں مضمر ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
नवेद-ए-अम्न है बेदाद-ए-दोस्त जाँ के लिए
रही न तर्ज़-ए-सितम कोई आसमाँ के लिए
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
محبوب کی بے انصافی جان کے لیے امن کی خوشخبری ہے۔ اب آسمان کے لیے ظلم کا کوئی انداز باقی نہیں رہا۔
2
बला से गर मिज़ा-ए-यार तिश्ना-ए-ख़ूँ है
रखूँ कुछ अपनी भी मिज़्गान-ए-ख़ूँ फ़िशाँ के लिए
بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
بَلا محبوب کی پلکیں خون کی پیاسی ہوں، میں بھی اپنی خون بہانے والی پلکوں کو ان کے لیے تیار رکھوں گا۔
3
वो ज़िंदा हम हैं कि हैं रू-शनास-ए-ख़ल्क़ ऐ ख़िज़्र
न तुम कि चोर बने उम्र-ए-जावेदाँ के लिए
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
اے خضر، ہم ہی اصل میں زندہ ہیں کیونکہ ہم لوگوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ تم نہیں، جو محض ابدی زندگی کے لیے چور بن گئے ہیں۔
4
रहा बला में भी मैं मुब्तला-ए-आफ़त-ए-रश्क
बला-ए-जाँ है अदा तेरी इक जहाँ के लिए
رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
میں مصیبت میں بھی رشک کی آفت میں مبتلا رہا۔ تیری ادا ایک جہاں کے لیے جان لیوا بلا ہے۔
5
फ़लक न दूर रख उस से मुझे कि मैं ही नहीं
दराज़-दस्ती-ए-क़ातिल के इम्तिहाँ के लिए
فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
دراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے
شاعر تقدیر سے التجا کرتا ہے کہ اسے محبوب سے دور نہ رکھے، کیونکہ وہ ظالم کی دراز دستی (یعنی جدائی کی سختیوں یا ظالمانہ حالات) کی آزمائش کو بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
6
मिसाल ये मिरी कोशिश की है कि मुर्ग़-ए-असीर
करे क़फ़स में फ़राहम ख़स आशियाँ के लिए
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
یہ میری کوشش کی مثال ہے، جیسے ایک قیدی پرندہ پنجرے میں اپنے گھونسلے کے لیے تنکے اکٹھے کرتا ہے۔
7
गदा समझ के वो चुप था मिरी जो शामत आई
उठा और उठ के क़दम मैं ने पासबाँ के लिए
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
وہ مجھے گدا سمجھ کر خاموش تھا، جب میری شامت آئی۔ میں اٹھا اور اٹھ کر میں نے پاسباں کی طرف قدم بڑھائے۔
8
ब-क़द्र-ए-शौक़ नहीं ज़र्फ़-ए-तंगना-ए-ग़ज़ल
कुछ और चाहिए वुसअत मिरे बयाँ के लिए
بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
غزل کی تنگ ظرفی میرے شوق کے مطابق نہیں۔ میرے بیان کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔
9
दिया है ख़ल्क़ को भी ता उसे नज़र न लगे
बना है ऐश तजम्मुल हुसैन ख़ाँ के लिए
دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
خلق کو بھی حصہ دیا گیا ہے تاکہ اسے نظر نہ لگے؛ ساری عیش و عشرت اور شان و شوکت تجمل حسین خاں کے لیے بنی ہے۔
10
ज़बाँ पे बार-ए-ख़ुदाया ये किस का नाम आया
कि मेरे नुत्क़ ने बोसे मिरी ज़बाँ के लिए
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
اے خدا، میری زبان پر یہ کس کا نام آیا، کہ میری گویائی نے خود میری زبان کو بوسے دیے۔
11
नसीर-ए-दौलत-ओ-दीं और मुईन-ए-मिल्लत-ओ-मुल्क
बना है चर्ख़-ए-बरीं जिस के आस्ताँ के लिए
نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملک
بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
وہ دولت و دین کے ناصر اور ملت و ملک کے معین ہیں۔ بلند آسمان اسی کی دہلیز کے لیے بنائے گئے ہیں۔
12
ज़माना अहद में उस के है महव-ए-आराइश
बनेंगे और सितारे अब आसमाँ के लिए
زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
اس کے عہد میں زمانہ آراستگی میں محو ہے، اب آسمان کے لیے اور ستارے بنائے جائیں گے۔
13
वरक़ तमाम हुआ और मद्ह बाक़ी है
सफ़ीना चाहिए इस बहर-ए-बेकराँ के लिए
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
ورق تمام ہو گیا ہے، مگر مدح ابھی باقی ہے۔ اس بےکراں بحر کے لیے ایک سفینہ درکار ہے۔
14
अदा-ए-ख़ास से 'ग़ालिब' हुआ है नुक्ता-सरा
सला-ए-आम है यारान-ए-नुक्ता-दाँ के लिए
ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
غالب اپنی خاص ادا سے نکتہ سرا ہوئے ہیں۔ یہ نکتہ شناس دوستوں کے لیے ایک عام دعوت ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
