Sukhan AI
غزل

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
مرزا غالب· Ghazal· 14 shers· radif: लिए

یہ غزل عشق، کرب اور وجودی معانی کے پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی بے رخی میں ایک متضاد سکون پاتا ہے اور محبت کی خاطر شدید درد اور رشک کو برداشت کرنے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک فلسفیانہ سوچ بھی پیش کرتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی صرف لافانیت میں نہیں بلکہ انسانی تعلقات اور پہچان میں مضمر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
नवेद-ए-अम्न है बेदाद-ए-दोस्त जाँ के लिए रही न तर्ज़-ए-सितम कोई आसमाँ के लिए
محبوب کی بے انصافی جان کے لیے امن کی خوشخبری ہے۔ اب آسمان کے لیے ظلم کا کوئی انداز باقی نہیں رہا۔
2
बला से गर मिज़ा-ए-यार तिश्ना-ए-ख़ूँ है रखूँ कुछ अपनी भी मिज़्गान-ए-ख़ूँ फ़िशाँ के लिए
بَلا محبوب کی پلکیں خون کی پیاسی ہوں، میں بھی اپنی خون بہانے والی پلکوں کو ان کے لیے تیار رکھوں گا۔
3
वो ज़िंदा हम हैं कि हैं रू-शनास-ए-ख़ल्क़ ऐ ख़िज़्र न तुम कि चोर बने उम्र-ए-जावेदाँ के लिए
اے خضر، ہم ہی اصل میں زندہ ہیں کیونکہ ہم لوگوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ تم نہیں، جو محض ابدی زندگی کے لیے چور بن گئے ہیں۔
4
रहा बला में भी मैं मुब्तला-ए-आफ़त-ए-रश्क बला-ए-जाँ है अदा तेरी इक जहाँ के लिए
میں مصیبت میں بھی رشک کی آفت میں مبتلا رہا۔ تیری ادا ایک جہاں کے لیے جان لیوا بلا ہے۔
5
फ़लक न दूर रख उस से मुझे कि मैं ही नहीं दराज़-दस्ती-ए-क़ातिल के इम्तिहाँ के लिए
شاعر تقدیر سے التجا کرتا ہے کہ اسے محبوب سے دور نہ رکھے، کیونکہ وہ ظالم کی دراز دستی (یعنی جدائی کی سختیوں یا ظالمانہ حالات) کی آزمائش کو بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
6
मिसाल ये मिरी कोशिश की है कि मुर्ग़-ए-असीर करे क़फ़स में फ़राहम ख़स आशियाँ के लिए
یہ میری کوشش کی مثال ہے، جیسے ایک قیدی پرندہ پنجرے میں اپنے گھونسلے کے لیے تنکے اکٹھے کرتا ہے۔
7
गदा समझ के वो चुप था मिरी जो शामत आई उठा और उठ के क़दम मैं ने पासबाँ के लिए
وہ مجھے گدا سمجھ کر خاموش تھا، جب میری شامت آئی۔ میں اٹھا اور اٹھ کر میں نے پاسباں کی طرف قدم بڑھائے۔
9
दिया है ख़ल्क़ को भी ता उसे नज़र न लगे बना है ऐश तजम्मुल हुसैन ख़ाँ के लिए
خلق کو بھی حصہ دیا گیا ہے تاکہ اسے نظر نہ لگے؛ ساری عیش و عشرت اور شان و شوکت تجمل حسین خاں کے لیے بنی ہے۔
10
ज़बाँ पे बार-ए-ख़ुदाया ये किस का नाम आया कि मेरे नुत्क़ ने बोसे मिरी ज़बाँ के लिए
اے خدا، میری زبان پر یہ کس کا نام آیا، کہ میری گویائی نے خود میری زبان کو بوسے دیے۔
11
नसीर-ए-दौलत-ओ-दीं और मुईन-ए-मिल्लत-ओ-मुल्क बना है चर्ख़-ए-बरीं जिस के आस्ताँ के लिए
وہ دولت و دین کے ناصر اور ملت و ملک کے معین ہیں۔ بلند آسمان اسی کی دہلیز کے لیے بنائے گئے ہیں۔
12
ज़माना अहद में उस के है महव-ए-आराइश बनेंगे और सितारे अब आसमाँ के लिए
اس کے عہد میں زمانہ آراستگی میں محو ہے، اب آسمان کے لیے اور ستارے بنائے جائیں گے۔
13
वरक़ तमाम हुआ और मद्ह बाक़ी है सफ़ीना चाहिए इस बहर-ए-बेकराँ के लिए
ورق تمام ہو گیا ہے، مگر مدح ابھی باقی ہے۔ اس بےکراں بحر کے لیے ایک سفینہ درکار ہے۔
14
अदा-ए-ख़ास से 'ग़ालिब' हुआ है नुक्ता-सरा सला-ए-आम है यारान-ए-नुक्ता-दाँ के लिए
غالب اپنی خاص ادا سے نکتہ سرا ہوئے ہیں۔ یہ نکتہ شناس دوستوں کے لیے ایک عام دعوت ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے | Sukhan AI