Sukhan AI
غزل

مژدہ اے ذوقِ اسیری کہ نظر آتا ہے

مژدہ اے ذوقِ اسیری کہ نظر آتا ہے
مرزا غالب· Ghazal· 8 shers· radif: पास

یہ غزل قید کی عجیب لذت اور اذیت کی ایک نہ ختم ہونے والی پیاس کے تضاد کو بیان کرتی ہے جسے کبھی تسکین نہیں ملتی۔ اس میں ایک عاشق کی دلدوز کیفیت کو پیش کیا گیا ہے جس کی آنکھیں محبوب کے آنے تک بند ہو چکی ہوتی ہیں، اور یہ طویل اذیت کے بجائے ایک فوری اور فیصلہ کن انجام کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
जिगर-ए-तिश्ना-ए-आज़ार तसल्ली न हुआ जू-ए-ख़ूँ हम ने बहाई बुन-ए-हर ख़ार के पास
میرا دل، جو اذیت کا پیاسا تھا، اسے تسلی نہ ملی۔ ہم نے ہر کانٹے کی جڑ کے پاس خون کی ندی بہا دی۔
3
मुँद गईं खोलते ही खोलते आँखें है है ख़ूब वक़्त आए तुम इस 'आशिक़-ए-बीमार के पास
میری آنکھیں کھلتے ہی بند ہو گئیں، ہائے! تم اس بیمار عاشق کے پاس بالکل صحیح وقت پر آئے۔
4
मैं भी रुक रुक के न मरता जो ज़बाँ के बदले दशना इक तेज़ सा होता मिरे ग़म-ख़्वार के पास
میں بھی رُک رُک کر نہ مرتا اگر میرے غم خوار کے پاس زبان کی جگہ ایک تیز خنجر ہوتا۔ شاعر کا مطلب ہے کہ آہستہ اور تکلیف دہ موت سے بہتر ایک تیز اور فیصلہ کن انجام ہوتا۔
5
दहन-ए-शेर में जा बैठे लेकिन ऐ दिल न खड़े हो जिए ख़ूबान-ए-दिल-आज़ार के पास
اے دل، تم بھلے ہی شیر کے منہ میں جا کر بیٹھ جاؤ، لیکن ان دل آزار حسینوں کے قریب کبھی کھڑے نہ ہو۔
6
देख कर तुझ को चमन बस-कि नुमू करता है ख़ुद-ब-ख़ुद पहुँचे है गुल गोशा-ए-दस्तार के पास
تجھ کو دیکھ کر چمن اس قدر بڑھتا ہے کہ پھول خود بخود تمہاری دستار کے گوشے تک پہنچ جاتا ہے۔
7
मर गया फोड़ के सर ग़ालिब-ए-वहशी है है बैठना उस का वो आ कर तिरी दीवार के पास
غالب، وہ وحشی (پاگل) شخص، اپنا سر پھوڑ کر مر گیا، ہائے افسوس! یہ سب اُس کا تمہاری دیوار کے پاس آ کر بیٹھنا ہی تھا۔
8
कब फ़क़ीरों को रसाई बुत-ए-मय-ख़्वार के पास तो बने बू दीजिए मयख़ाने की दीवार के पास
فقیر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ شراب پینے والے محبوب (بُت) کے پاس کب پہنچ سکتے ہیں۔ اگر براہ راست رسائی ممکن نہ ہو، تو وہ کم سے کم مے خانے کی دیوار کے پاس اس کی محض خوشبو ہی چاہتے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.