غزل
ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
یہ غزل غم کے بے پناہ بوجھ کو نہایت فصاحت سے بیان کرتی ہے، جو نگاہ اور ذات کے درمیان کی حد کو مٹا دیتا ہے۔ یہ زخموں کو مندمل کرنے کے درد میں پنہاں متضاد لذت کو بیان کرتی ہے، جو تکلیف کی گہری قبولیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ غالب کی تبدیلی لانے والی موجودگی اور یہ بھی اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح محبوب کی خود پسندی محبت میں رکاوٹ بنتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हुजूम-ए-ग़म से याँ तक सर-निगूनी मुझ को हासिल है
कि तार-ए-दामन ओ तार-ए-नज़र में फ़र्क़ मुश्किल है
میں غموں کے ہجوم سے اس قدر سرنگوں ہوں کہ میرے دامن کے دھاگے اور میری نظر کی تار میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
2
रफ़ू-ए-ज़ख्म से मतलब है लज़्ज़त ज़ख़्म-ए-सोज़न की
समझियो मत कि पास-ए-दर्द से दीवाना ग़ाफ़िल है
رفوِ زخم سے مراد سوئی کے زخم کا لطف ہے۔ یہ مت سمجھنا کہ یہ دیوانہ درد کے احترام سے غافل ہے۔
3
वो गुल जिस गुल्सिताँ में जल्वा-फ़रमाई करे 'ग़ालिब'
चटकना ग़ुंचा-ए-गुल का सदा-ए-ख़ंदा-ए-दिल है
اے غالب، وہ پھول جس باغ میں اپنی خوبصورتی دکھاتا ہے، گلاب کی کلی کا چٹکنا دراصل دل کے ہنسنے کی آواز ہے۔
4
हुआ है माने-ए-आशिक़-नवाज़ी नाज़-ए-ख़ुद-बीनी
तकल्लुफ़-बर-तरफ़ आईना-ए-तमईज़ हाएल है
ان کا خود بینی کا ناز عاشق نوازی میں مانع ہو گیا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ تمیز کا آئینہ ہی اصل رکاوٹ ہے۔
5
ब-सैल-ए-अश्क लख़्त-ए-दिल है दामन-गीर मिज़्गाँ का
ग़रीक़-ए-बहर जूया-ए-ख़स-ओ-ख़ाशाक-ए-साहिल है
آنسوؤں کے سیلاب سے بہتے ہوئے دل کے ٹکڑے پلکوں سے لپٹے ہوئے ہیں، جیسے کوئی سمندر میں ڈوبتا ہوا کنارے کے تنکے اور کچرے کو سہارا بنانے کی تلاش کرتا ہے۔
6
बहा है याँ तक अश्कों में ग़ुबा-ए-कुल्फ़त-ए-ख़ातिर
कि चश्म-ए-तर में हर इक पारा-ए-दिल पा-ए-दर-गिल है
دل کے غم کی گرد آنسوؤں میں یہاں تک بہی ہے کہ نم آنکھوں میں دل کا ہر ٹکڑا کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے۔
7
निकलती है तपिश में बिस्मिलों की बर्क़ की शोख़ी
ग़रज़ अब तक ख़याल-ए-गर्मी-ए-रफ़्तार क़ातिल है
مرتے ہوئے (بِسمالوں) کی تپش میں بجلی کی شوخی اور تیزی نکلتی ہے۔ غرض، اب تک قاتل کی چال کی گرمی کا خیال ہی جان لیوا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
