غزل
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
یہ غزل ایک ایسے عاشق کے شدید کرب، حیرانی اور بے بسی کو بیان کرتی ہے جو مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر اپنے دل اور جگر کے درد سے پریشان ہے، رقیب کے در پر جانے کی مجبوری اور اپنی توہین پر نوحہ کناں ہے۔ وہ اپنے کھوئے ہوئے راستے اور اس راہ پر چلنے کے پچھتاوے کا اظہار کرتا ہے جس نے اسے اتنا دکھ دیا، پھر بھی محبوب سے ایک پیچیدہ اور دردناک تعلق کا ذکر کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
हैराँ हूँ दिल को रोऊँ कि पीटूँ जिगर को मैं
मक़्दूर हो तो साथ रखूँ नौहागर को मैं
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
میں حیراں ہوں کہ اپنے دل کے لیے روؤں یا اپنے جگر کو پیٹوں۔ اگر میرے پاس مقدور ہوتا تو میں اپنے ساتھ ایک نوحہ گر کو رکھتا۔
2
छोड़ा न रश्क ने कि तिरे घर का नाम लूँ
हर इक से पूछता हूँ कि जाऊँ किधर को मैं
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
رشک نے مجھے تمہارے گھر کا نام لینے نہیں دیا، اس لیے میں ہر کسی سے پوچھتا ہوں کہ مجھے کدھر جانا چاہیے۔
3
जाना पड़ा रक़ीब के दर पर हज़ार बार
ऐ काश जानता न तिरे रह-गुज़र को मैं
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
مجھے اپنے رقیب کے در پر ہزار بار جانا پڑا۔ اے کاش میں تیرے رہ گزر کو کبھی نہ جانتا۔
4
है क्या जो कस के बाँधिए मेरी बला डरे
क्या जानता नहीं हूँ तुम्हारी कमर को मैं
ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
کیا ہو گا جو تم کس کر باندھو، کیا میری بلائیں ڈر کر بھاگ جائیں گی؟ کیا میں تمہاری کمر سے واقف نہیں ہوں؟
5
लो वो भी कहते हैं कि ये बे-नंग-ओ-नाम है
ये जानता अगर तो लुटाता न घर को मैं
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
دیکھو، وہ بھی کہتے ہیں کہ میں بے ننگ و نام ہوں۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا تو میں اپنا گھر نہ لٹاتا۔
6
चलता हूँ थोड़ी दूर हर इक तेज़-रौ के साथ
पहचानता नहीं हूँ अभी राहबर को मैं
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
میں ہر تیز چلنے والے شخص کے ساتھ تھوڑی دور چلتا ہوں، کیونکہ میں نے ابھی تک اپنے سچے رہنما کو نہیں پہچانا ہے۔
7
ख़्वाहिश को अहमक़ों ने परस्तिश दिया क़रार
क्या पूजता हूँ उस बुत-ए-बेदाद-गर को मैं
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
احمقوں نے خواہش کو پرستش قرار دیا ہے۔ میں بھلا اس ظالم بت کی کیا پرستش کرتا ہوں؟
8
फिर बे-ख़ुदी में भूल गया राह-ए-कू-ए-यार
जाता वगर्ना एक दिन अपनी ख़बर को मैं
پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
پھر سے، میں بے خودی میں محبوب کی گلی کا راستہ بھول گیا۔ ورنہ ایک دن میں اپنی حالت جاننے چلا جاتا۔
9
अपने पे कर रहा हूँ क़यास अहल-ए-दहर का
समझा हूँ दिल-पज़ीर मता-ए-हुनर को मैं
اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
میں اہل دنیا کو اپنی ذات پر قیاس کر رہا ہوں۔ میں نے ہنر کے اثاثے کو دل کو بھانے والا سمجھا ہے۔
10
'ग़ालिब' ख़ुदा करे कि सवार-ए-समंद-नाज़
देखूँ अली बहादुर-ए-आली-गुहर को मैं
غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں
غالب، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں عالی نسب علی بہادر کو ایک خوبصورت گھوڑے پر سوار دیکھوں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
