غزل

گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج

گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: आज

یہ غزل ایک ایسے دن کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں زندگی کا معمول کا نظام گہرے دکھ اور بے چین تڑپ سے درہم برہم ہو گیا ہے۔ شاعر کا دل ٹوٹا ہوا ہے، اور بے قابو آنسو سیلاب کی طرح بہہ رہے ہیں، جو بے پناہ کرب کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جذباتی کشمکش کے درمیان، ایک شدید، مسلسل انتظار ہے، جس میں آنکھیں لگاتار تلاش میں ہیں، کسی تبدیلی کی امید میں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
गुलशन में बंदोबस्त ब-रंग-ए-दिगर है आज क़ुमरी का तौक़ हल्क़ा-ए-बैरून-ए-दर है आज
گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
آج گلشن میں بندوبست ب-رنگِ دیگر ہے۔ قمری کا طوق آج دروازے کے باہر ایک حلقہ ہے۔
2
आता है एक पारा-ए-दिल हर फ़ुग़ाँ के साथ तार-ए-नफ़स कमंद-ए-शिकार-ए-असर है आज
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
ہر فغاں کے ساتھ دل کا ایک ٹکڑا نکل آتا ہے۔ آج سانس کا تار اثر کا شکار کرنے والی کمند بنا ہوا ہے۔
3
ऐ आफ़ियत किनारा कर ऐ इंतिज़ाम चल सैलाब-ए-गिर्या दरपय-ए-दीवार-ओ-दर है आज
اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
اے عافیت، کنارہ کر لے اور اے انتظام، دور ہو جا۔ آج آنسوؤں کا ایسا سیلاب ہے کہ وہ ہر دیوار اور در کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
4
माज़ूली-ए-तपिश हुई इफ़रात-ए-इंतिज़ार चश्म-ए-कुशादा हल्क़ा-ए-बैरून-ए-दर है आज
معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
انتظار کی زیادتی نے جوش و خروش کی تپش کو ختم کر دیا ہے؛ آج میری کھلی آنکھ دروازے کے باہر کی کنڈی بن گئی ہے۔
5
हैरत-फ़रोश-ए-सद-निगरानी है इज़्तिरार सर-रिश्ता चाक-ए-जेब का तार-ए-नज़र है आज
حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
اضطراب سو نگہبانیوں کی حیرت کا فروشندہ ہے۔ آج، چاکِ جیب کا دھاگا ہی تارِ نظر ہے۔
6
हूँ दाग़-ए-नीम-रंगी-ए-शाम-ए-विसाल-ए-यार नूर-ए-चराग़-ए-बज़्म से जोश-ए-सहर है आज
ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
میں یار کے وصل کی شام کا ایک نیم رنگ داغ ہوں۔ آج بزم کے چراغ کے نور سے سحر کا جوش ابھرا ہے۔
7
करती है आजिज़ी-ए-सफ़र सोख़्तन तमाम पैराहन-ए-ख़सक में ग़ुबार-ए-शरर है आज
کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
سفر کی عاجزی سب کچھ مکمل طور پر بھسم کر دیتی ہے۔ آج خشک گھاس کے لباس میں شرر کا غبار ہے۔
8
ता-सुब्ह है ब-मंज़िल-ए-मक़्सद रसीदनी दूद-ए-चराग़-ए-ख़ाना ग़ुबार-ए-सफ़र है आज
تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
صبح تک منزل پر پہنچنا ہے۔ آج گھر کے چراغ کا دھواں سفر کی دھول ہے۔
9
दूर-ऊफ़्तादा-ए-चमन-ए-फ़िक्र है 'असद' मुर्ग़-ए-ख़याल बुलबुल-ए-बे-बाल-ओ-पर है आज
دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
اسد فکر کے چمن سے دور پڑا ہے، اس کا خیال کا پرندہ آج بے پر و بال بلبل ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.