माज़ूली-ए-तपिश हुई इफ़रात-ए-इंतिज़ार
चश्म-ए-कुशादा हल्क़ा-ए-बैरून-ए-दर है आज
“The ardour's fever has ceased due to the excess of waiting;My open eye today, is the knocker outside the door.”
— مرزا غالب
معنی
انتظار کی زیادتی نے جوش و خروش کی تپش کو ختم کر دیا ہے؛ آج میری کھلی آنکھ دروازے کے باہر کی کنڈی بن گئی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
