غزل
غم کھانے میں بوسیدہ دلِ ناکام بہت ہے
غم کھانے میں بوسیدہ دلِ ناکام بہت ہے
یہ غزل ایک ایسے دل کی تصویر کشی کرتی ہے جو لامتناہی دکھوں کو جھیلتے جھیلتے تھک گیا ہے، اور زندگی میں خوشیوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر پنجرے کے گوشے میں ایک عجیب سکون پاتا ہے، جہاں وہ بیرونی دنیا کے خطرات سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ غزل ان مذہبی اعمال پر بھی تنقید کرتی ہے جو صرف اعمال کے اجر کی خواہش پر مبنی ہوتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ग़म खाने में बूदा दिल-ए-नाकाम बहुत है
ये रंज कि कम है मय-ए-गुलफ़ाम बहुत है
غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
غم سہتے سہتے میرا ناکام دل بہت کمزور ہو گیا ہے۔ یہ افسوس ہے کہ گلابی شراب بہت کم ہے۔
2
कहते हुए साक़ी से हया आती है वर्ना
है यूँ कि मुझे दुर्द-ए-तह-ए-जाम बहुत है
کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
مجھے ساقی سے یہ کہتے ہوئے حیا آتی ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میرے جام میں بہت زیادہ تہہِ جام (تلچھٹ) ہے۔
3
ने तीर कमाँ में है न सय्याद कमीं में
गोशे में क़फ़स के मुझे आराम बहुत है
نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
نہ تو تیر کمان میں ہے اور نہ ہی صیاد (شکاری) گھات میں ہے۔ قفس (پنجرے) کے کونے میں مجھے بہت آرام ہے۔
4
क्या ज़ोहद को मानूँ कि न हो गरचे रियाई
पादाश-ए-अमल की तमा-ए-ख़ाम बहुत है
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے
میں زہد کو کیوں مانوں، اگرچہ وہ ریاکاری سے پاک ہو۔ کیونکہ عمل کے بدلے کی کچی تمنا بہت زیادہ ہے۔
5
हैं अहल-ए-ख़िरद किस रविश-ए-ख़ास पे नाज़ाँ
पाबस्तगी-ए-रस्म-ओ-राह-ए-आम बहुत है
ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں
پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
اہلِ خِرَد کس خاص روش پر فخر کرتے ہیں، جبکہ عام رسم و رواج اور راستوں کی بہت زیادہ پابندی ہے۔
6
ज़मज़म ही पे छोड़ो मुझे क्या तौफ़-ए-हरम से
आलूदा-ब-मय जामा-ए-एहराम बहुत है
زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
مجھے زمزم ہی پر چھوڑ دو؛ خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا کیا فائدہ؟ میرا احرام کا لباس شراب سے بہت زیادہ آلودہ ہے۔
7
है क़हर गर अब भी न बने बात कि उन को
इंकार नहीं और मुझे इबराम बहुत है
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
یہ ظلم ہوگا اگر اب بھی بات نہ بنے، کیونکہ انہیں انکار نہیں ہے اور مجھے بہت اصرار ہے۔
8
ख़ूँ हो के जिगर आँख से टपका नहीं ऐ मर्ग
रहने दे मुझे याँ कि अभी काम बहुत है
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
اے موت! ابھی میرا جگر خون ہو کر آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے۔ مجھے یہیں رہنے دے کیونکہ ابھی بہت کام باقی ہے۔
9
होगा कोई ऐसा भी कि 'ग़ालिब' को न जाने
शाइ'र तो वो अच्छा है प बदनाम बहुत है
ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو 'غالب' کو نہ جانتا ہو؟ وہ شاعر تو اچھا ہے پر بہت بدنام ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
