غزل
جب میں دھوتا ہوں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
جب میں دھوتا ہوں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
یہ غزل ایک ایسے عاشق کے شدید دکھ اور بے لوث عقیدت کو بیان کرتی ہے جس کا محبوب بے پروا یا ظالم ہے، یہاں تک کہ جب عاشق عقیدت سے اس کے قدم دھونا چاہتا ہے تو وہ اپنے پاؤں پیچھے ہٹا لیتا ہے۔ اس میں عشاق کی المناک تقدیر پر روشنی ڈالی گئی ہے، کوہکن جیسے کرداروں کا حوالہ دیا گیا ہے، اور عاشق کے درد بھرے سفر کو بیان کیا گیا ہے، جہاں وہ ماضی کی غلطیوں کے نتائج بھگتتے ہوئے اور ذلت برداشت کرتے ہوئے سکون کی تلاش میں بھٹکتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
धोता हूँ जब मैं पीने को उस सीम-तन के पाँव
रखता है ज़िद से खींच के बाहर लगन के पाँव
جب میں اس چاندی جیسے جسم والے کے پاؤں پینے کے لیے دھوتا ہوں، تو وہ ضد سے اپنے پاؤں لگن (برتن) سے باہر کھینچ لیتا ہے۔
2
दी सादगी से जान पड़ुं कोहकन के पाँव
हैहात क्यूँ न टूट गए पीर-ज़न के पाँव
سادگی سے میں کوہکن کے قدموں میں اپنی جان نچھاور کر دیتا۔ افسوس! اس بڑھیا کے پاؤں کیوں نہ ٹوٹ گئے؟
3
भागे थे हम बहुत सो उसी की सज़ा है ये
हो कर असीर दाबते हैं राहज़न के पाँव
ہم بہت بھاگے تھے اور اسی کی سزا ہے یہ کہ قیدی بن کر راہزن کے پاؤں دبا رہے ہیں۔
4
मरहम की जुस्तुजू में फिरा हूँ जो दूर दूर
तन से सिवा फ़िगार हैं इस ख़स्ता-तन के पाँव
میں مرہم کی تلاش میں دور دور تک بھٹکتا پھرا ہوں۔ اس دکھیا جسم کے پاؤں خود جسم سے بھی زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
5
अल्लाह-रे ज़ौक़-ए-दश्त-नवर्दी कि बा'द-ए-मर्ग
हिलते हैं ख़ुद-ब-ख़ुद मिरे अन्दर कफ़न के पाँव
اللہ رے میری صحرا نوردی کا شوق کہ موت کے بعد بھی میرے کفن کے اندر میرے پاؤں خود بخود ہلتے ہیں۔
6
है जोश-ए-गुल बहार में याँ तक कि हर तरफ़
उड़ते हुए उलझते हैं मुर्ग़-ए-चमन के पाँव
بہار میں پھولوں کی کثرت اتنی زیادہ ہے کہ ہر طرف اُڑتے ہوئے چمن کے پرندوں کے پاؤں اُلجھ جاتے ہیں۔
7
शब को किसी के ख़्वाब में आया न हो कहीं
दुखते हैं आज उस बुत-ए-नाज़ुक-बदन के पाँव
کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ رات کو کسی کے خواب میں آیا ہو؟ کیونکہ آج اُس نازک بدن بُت کے پاؤں دُکھ رہے ہیں۔
8
'ग़ालिब' मिरे कलाम में क्यूँकर मज़ा न हो
पीता हूँ धोके ख़ुसरव-ए-शीरीं-सुख़न के पाँव
غالب کہتے ہیں، میرے کلام میں لطف کیوں نہ ہو؟ میں خسرو شیریں سخن کے پاؤں کے دھوکے پیتا ہوں۔
9
बेचारा कितनी दूर से आया है शैख़ जी
का'बे में क्यों दबाएँ न हम बरहमन के पाँव
اے شیخ جی، یہ بیچارا کتنی دور سے آیا ہے؛ ہم کعبہ میں برہمن کے پاؤں کیوں نہ دبائیں؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
