भागे थे हम बहुत सो उसी की सज़ा है ये
हो कर असीर दाबते हैं राहज़न के पाँव
“We fled extensively, and this is its punishment, That, as captives, we now press the highwayman's feet.”
— مرزا غالب
معنی
ہم بہت بھاگے تھے اور اسی کی سزا ہے یہ کہ قیدی بن کر راہزن کے پاؤں دبا رہے ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
