غزل
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامَن افشانی مجھے
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامَن افشانی مجھے
یہ غزل شاعر کی شدید جذباتی کیفیت اور یکطرفہ عشق کی عکاسی کرتی ہے۔ محبوب کی پردے کے پیچھے سے کی جانے والی بے رخی اور بے پروائی کو شاعر کی حساسیت، گہرے غم اور مسلسل اندرونی تلاش کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ آخرکار، شاعر اپنی تقدیر کو تسلیم کرتا ہے، اور اپنی ہستی کو ویرانی کا سبب قرار دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
देख कर दर-पर्दा गर्म-ए-दामन-अफ़्शानी मुझे
कर गई वाबस्ता-ए-तन मेरी उर्यानी मुझे
دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
پردے کے پیچھے سے مجھے اپنا دامن جوش سے جھاڑتے ہوئے دیکھ کر، میری عریانی میرے بدن سے جڑ گئی۔
2
बन गया तेग़-ए-निगाह-ए-यार का संग-ए-फ़साँ
मर्हबा मैं क्या मुबारक है गिराँ-जानी मुझे
بن گیا تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
میری گراں جاں (بھاری روح) یار کی تلوار جیسی نگاہ کے لیے سنگِ فساں بن گئی ہے۔ مرحبا! میں کتنا مبارک ہوں کہ مجھے یہ گراں جانی (بھاری جاں یا صبر والی روح) نصیب ہوئی ہے۔
3
क्यूँ न हो बे-इल्तिफ़ाती उस की ख़ातिर जम्अ' है
जानता है महव-ए-पुर्सिश-हा-ए-पिन्हानी मुझे
کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
کیوں نہ ہو اُس کی بے التفاتی؟ وہ مطمئن ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اُس کی پوشیدہ پُرسِشوں میں مَحو ہوں۔
4
मेरे ग़म-ख़ाने की क़िस्मत जब रक़म होने लगी
लिख दिया मिन-जुमला-ए-असबाब-ए-वीरानी मुझे
میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے
جب میرے غم کے گھر کی قسمت لکھی جانے لگی، تو مجھے ویرانی کے اسباب میں شامل کر لیا گیا۔
5
बद-गुमाँ होता है वो काफ़िर न होता काश के
इस क़दर ज़ौक़-ए-नवा-ए-मुर्ग़-ए-बुस्तानी मुझे
بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
کاش کہ وہ کافر (محبوب) بدگمان نہ ہوتا۔ مجھے باغ کے پرندے کے گیت کا اس قدر شوق ہے۔
6
वाए वाँ भी शोर-ए-महशर ने न दम लेने दिया
ले गया था गोर में ज़ौक़-ए-तन-आसानी मुझे
وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
افسوس، وہاں بھی قیامت کے شور نے مجھے دم نہیں لینے دیا۔ میں تو جسمانی آرام کے شوق میں قبر میں گیا تھا۔
7
वा'दा आने का वफ़ा कीजे ये क्या अंदाज़ है
तुम ने क्यूँ सौंपी है मेरे घर की दरबानी मुझे
وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
آپ کے آنے کا وعدہ پورا کیجیے، یہ کیسا انداز ہے؟ آپ نے مجھے میرے ہی گھر کی دربانی کیوں سونپی ہے؟
8
हाँ नशात-ए-आमद-ए-फ़स्ल-ए-बहारी वाह वाह
फिर हुआ है ताज़ा सौदा-ए-ग़ज़ल-ख़्वानी मुझे
ہاں نشاط آمد فصل بہاری واہ واہ
پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
ہاں، موسمِ بہار کی آمد کی خوشی، واہ واہ! مجھے غزل خوانی کا جنون پھر سے تازہ ہو گیا ہے۔
9
दी मिरे भाई को हक़ ने अज़-सर-ए-नौ ज़िंदगी
मीरज़ा यूसुफ़ है 'ग़ालिब' यूसुफ़-ए-सानी मुझे
دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
حق نے میرے بھائی کو از سر نو زندگی دی ہے۔ غالب، میرے لیے مرزا یوسف دوسرا یوسف ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
