Sukhan AI
غزل

آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے

آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: से

یہ غزل سیلاب اور طوفان کے ہولناک اور طاقتور آمد سے شروع ہوتی ہے، جو ایک عظیم قوت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ پھر نشہ آور حسن کے گہرے اثرات کو بیان کرتی ہے، جہاں کسی کی سرمست نگاہوں سے ایک بزمِ مے وحشت کدہ بن جاتی ہے۔ غزل کا اختتام اس ماورائی منظر پر ہوتا ہے جہاں شراب میں پری کی نبض پوشیدہ ہے، جو محبت یا محبوب کی موجودگی کے گہرے، چھپے ہوئے جادو اور مسحور کن جوہر کو سمیٹے ہوئے ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आमद-ए-सैलाब-ए-तूफ़ान-ए-सदा-ए-आब है नक़्श-ए-पा जो कान में रखता है उँगली जादा से
یہ پانی کی آواز کے طوفانی سیلاب کی آمد ہے؛ نقشِ پا جو راستے سے اپنے کان میں انگلی رکھتے ہیں۔
2
बज़्म-ए-मय वहशत-कदा है किस की चश्म-ए-मस्त का शीशे में नब्ज़-ए-परी पिन्हाँ है मौज-ए-बादा से
بزمِ مے کس کی مست آنکھ کا وحشت کدہ ہے؟ شیشے میں بادہ کی لہروں سے پری کی نبض پنہاں ہے۔
3
देखता हूँ वहशत-ए-शौक़-ए-ख़रोश-आमादा से फ़ाल-ए-रुस्वाई सरिश्क-ए-सर-ब-सहरा-दादा से
میں شور مچانے کو تیار شوق کی وحشت دیکھتا ہوں، اور صحرا میں بہائے گئے آنسوؤں سے رسوائی کا شگون دیکھتا ہوں۔
4
दाम गर सब्ज़े में पिन्हाँ कीजिए ताऊस हो जोश-ए-नैरंग-ए-बहार अर्ज़-ए-सहरा-दादा से
اگر آپ دام (قیمت یا مالیت) کو ہریاول میں چھپائیں تو وہ مور بن جاتا ہے۔ بہار کے نیرنگ کا جوش صحرا کی دی گئی وسعت سے آتا ہے۔
5
ख़ेमा-ए-लैला सियाह ख़ाना-ए-मजनूँ ख़राब जोश-ए-वीरानी है इश्क़-ए-दाग़-ए-बैरूं-दादा से
لیلیٰ کا خیمہ سیاہ ہے اور مجنوں کا گھر خراب۔ ویرانی کا یہ جوش باہر سے دیے گئے عشق کے داغ سے ہے۔
6
बज़्म-ए-हस्ती वो तमाशा है कि जिस को हम 'असद' देखते हैं चश्म-ए-अज़-ख़्वाब-ए-अदम-नकुशादा से
زندگی کی یہ محفل ایک ایسا تماشا ہے جسے ہم، اسد، عدم کی نیند سے نہ کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
7
y
x
اس شعر کا لغوی معنی 'x'، 'y' اور 'z' ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.