غزل
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے
یہ غزل سیلاب اور طوفان کے ہولناک اور طاقتور آمد سے شروع ہوتی ہے، جو ایک عظیم قوت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ پھر نشہ آور حسن کے گہرے اثرات کو بیان کرتی ہے، جہاں کسی کی سرمست نگاہوں سے ایک بزمِ مے وحشت کدہ بن جاتی ہے۔ غزل کا اختتام اس ماورائی منظر پر ہوتا ہے جہاں شراب میں پری کی نبض پوشیدہ ہے، جو محبت یا محبوب کی موجودگی کے گہرے، چھپے ہوئے جادو اور مسحور کن جوہر کو سمیٹے ہوئے ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
आमद-ए-सैलाब-ए-तूफ़ान-ए-सदा-ए-आब है
नक़्श-ए-पा जो कान में रखता है उँगली जादा से
آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
یہ پانی کی آواز کے طوفانی سیلاب کی آمد ہے؛ نقشِ پا جو راستے سے اپنے کان میں انگلی رکھتے ہیں۔
2
बज़्म-ए-मय वहशत-कदा है किस की चश्म-ए-मस्त का
शीशे में नब्ज़-ए-परी पिन्हाँ है मौज-ए-बादा से
بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
بزمِ مے کس کی مست آنکھ کا وحشت کدہ ہے؟ شیشے میں بادہ کی لہروں سے پری کی نبض پنہاں ہے۔
3
देखता हूँ वहशत-ए-शौक़-ए-ख़रोश-आमादा से
फ़ाल-ए-रुस्वाई सरिश्क-ए-सर-ब-सहरा-दादा से
دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے
فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
میں شور مچانے کو تیار شوق کی وحشت دیکھتا ہوں، اور صحرا میں بہائے گئے آنسوؤں سے رسوائی کا شگون دیکھتا ہوں۔
4
दाम गर सब्ज़े में पिन्हाँ कीजिए ताऊस हो
जोश-ए-नैरंग-ए-बहार अर्ज़-ए-सहरा-दादा से
دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
جوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے
اگر آپ دام (قیمت یا مالیت) کو ہریاول میں چھپائیں تو وہ مور بن جاتا ہے۔ بہار کے نیرنگ کا جوش صحرا کی دی گئی وسعت سے آتا ہے۔
5
ख़ेमा-ए-लैला सियाह ओ ख़ाना-ए-मजनूँ ख़राब
जोश-ए-वीरानी है इश्क़-ए-दाग़-ए-बैरूं-दादा से
لیلیٰ کا خیمہ سیاہ ہے اور مجنوں کا گھر خراب۔ ویرانی کا یہ جوش باہر سے دیے گئے عشق کے داغ سے ہے۔
6
बज़्म-ए-हस्ती वो तमाशा है कि जिस को हम 'असद'
देखते हैं चश्म-ए-अज़-ख़्वाब-ए-अदम-नकुशादा से
بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
زندگی کی یہ محفل ایک ایسا تماشا ہے جسے ہم، اسد، عدم کی نیند سے نہ کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
