“This world's grand stage, 'Asad', a show we see,With eyes still sealed from non-existence's sleep.”
زندگی کی یہ محفل ایک ایسا تماشا ہے جسے ہم، اسد، عدم کی نیند سے نہ کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
یہاں غالب صاحب فرماتے ہیں کہ یہ دنیا، یہ زندگی ایک شاندار تماشا ہے۔ ہم اسے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے ہماری آنکھیں ابھی پوری طرح کُھلی نہیں، گویا ہم ابھی بھی 'عدم کی نیند' یعنی جنم سے پہلے کی گہری نیند سے نیم بیدار ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسے ہم ایک خواب جیسی دُھندلی حالت میں ہی زندگی کے اس عجیب و غریب منظر کا مشاہدہ کر رہے ہوں، جہاں حقیقت اور خیال کا فرق مکمل طور پر واضح نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
