“From the wild frenzy of a passion's tumultuous roar, I read disgrace in tears spilled on the desert's floor.”
میں شور مچانے کو تیار شوق کی وحشت دیکھتا ہوں، اور صحرا میں بہائے گئے آنسوؤں سے رسوائی کا شگون دیکھتا ہوں۔
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے اندر کی اس بے قابو، شور مچانے کو تیار چاہت کو دیکھتے ہیں، تو انہیں اپنی رسوائی کا ڈر ستانے لگتا ہے۔ ان کے آنسو اس طرح بہہ رہے ہیں جیسے کسی کھلے ریگستان میں پانی پھیل جائے۔ دل کے جذبات کی یہ بے باک نمائش دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی محبت کی سچائی شاید معاشرے کی نظر میں بدنامی کا باعث بنے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
