“The coming of a flood, a tempest of water's sound is here,Lest footprints on the path should hold a finger to their ear.”
یہ پانی کی آواز کے طوفانی سیلاب کی آمد ہے؛ نقشِ پا جو راستے سے اپنے کان میں انگلی رکھتے ہیں۔
یہ شعر کتنی خوبصورتی سے ایک آنے والی بڑی تباہی یا تبدیلی کا منظر پیش کرتا ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں کہ ابھی تو صرف پانی کی گرج اور طوفانی سیلاب کی آواز ہی آئی ہے، مگر وہ اتنی زور دار ہے کہ راستے میں پڑا ایک بے جان قدم کا نشان بھی اپنے 'کانوں' میں انگلی رکھ کر اسے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کیسے کبھی کبھی آنے والی مصیبت کا احساس اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اس کی آہٹ سے ہی سب ہل جاتے ہیں، چاہے وہ کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
