غزل
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن کا جشن مناتی ہے، جو اس قدر دلکش ہے کہ ان کے حضور میں آئینہ بھی ایک تماشا بن جائے اور کوئی دوسرا ان کا ثانی نہیں ہو سکتا۔ یہ عاشق کی گہری حسرت کو بیان کرتی ہے، جہاں محبوب کا خیال ان کے وجود کو بھر دیتا ہے، اور ہر نگاہ ان کے دل کا ایک گہرا اور انمول حصہ بن جاتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
आईना क्यूँ न दूँ कि तमाशा कहें जिसे
ऐसा कहाँ से लाऊँ कि तुझ सा कहें जिसे
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
میں آئینہ کیوں نہ دوں تاکہ لوگ اسے تماشا کہیں۔ ایسی کوئی چیز کہاں سے لاؤں جسے تیرے جیسا کہہ سکیں۔
2
हसरत ने ला रखा तिरी बज़्म-ए-ख़याल में
गुल-दस्ता-ए-निगाह सुवैदा कहें जिसे
حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
میری حسرت نے تمہارے خیالوں کی محفل میں نگاہوں کا ایک ایسا گلدستہ لا رکھا ہے جسے سویدا کہتے ہیں۔
3
फूँका है किस ने गोश-ए-मोहब्बत में ऐ ख़ुदा
अफ़्सून-ए-इंतिज़ार तमन्ना कहें जिसे
پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
افسون انتظار تمنا کہیں جسے
اے خدا، کس نے محبت کے کان میں انتظار کا وہ افسون پھونکا ہے، جسے ہم تمنا کہتے ہیں؟
4
सर पर हुजूम-ए-दर्द-ए-ग़रीबी से डालिए
वो एक मुश्त-ए-ख़ाक कि सहरा कहें जिसे
سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
غریبی کے شدید درد کی وجہ سے، میرے سر پر وہ مٹھی بھر خاک ڈال دیجیے جسے لوگ صحرا کہتے ہیں۔
5
है चश्म-ए-तर में हसरत-ए-दीदार से निहाँ
शौक़-ए-इनाँ गुसेख़्ता दरिया कहें जिसे
ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
بھیگی ہوئی آنکھوں میں، دیدار کی حسرت سے چھپا ہوا، ایک ایسا شوق ہے جسے بے لگام دریا کہا جا سکتا ہے۔
6
दरकार है शगुफ़्तन-ए-गुल-हा-ए-ऐश को
सुब्ह-ए-बहार पुम्बा-ए-मीना कहें जिसे
درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
صبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
خوشی کے پھولوں کو کھلنے کے لیے بہار کی صبح کی ضرورت ہے، جسے 'مینا کا پنبہ' کہتے ہیں۔
7
'ग़ालिब' बुरा न मान जो वाइ'ज़ बुरा कहे
ऐसा भी कोई है कि सब अच्छा कहें जिसे
غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
غالب، برا نہ مانو اگر واعظ تمہیں برا کہے۔ کیا کوئی ایسا بھی ہے جسے سب اچھا کہیں؟
8
या रब हमें तो ख़्वाब में भी मत दिखाइयो
ये महशर-ए-ख़याल कि दुनिया कहें जिसे
یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
اے رب، ہمیں تو خواب میں بھی یہ خیالات کا ہجوم مت دکھائیو جسے لوگ دنیا کہتے ہیں۔
9
है इंतिज़ार से शरर आबाद रुस्तख़ेज़
मिज़्गान-ए-कोह-कन रग-ए-ख़ारा कहें जिसे
ہے انتظار سے شرر آباد رستخیز
مژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے
قیامت کا دن انتظار کی چنگاریوں سے آباد ہے۔ جسے ہم سخت پتھر کی رگیں کہتے ہیں، وہ کوہ کن کی پلکیں ہیں۔
10
किस फ़ुर्सत-ए-विसाल पे है गुल को अंदलीब
ज़ख़्म-ए-फ़िराक़ ख़ंदा-ए-बे-जा कहें जिसे
کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
زخم فراق خندۂ بیجا کہیں جسے
گل کو بلبل کے لیے وصال کی کیا فرصت ہے؟ جدائی کے زخم کو ہی ہم بے جا یا نامناسب ہنسی کہتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
