हसरत ने ला रखा तिरी बज़्म-ए-ख़याल में
गुल-दस्ता-ए-निगाह सुवैदा कहें जिसे
“My longing has placed within your thought's grand hall, A bouquet of gazes, which 'suveda' we call.”
— مرزا غالب
معنی
میری حسرت نے تمہارے خیالوں کی محفل میں نگاہوں کا ایک ایسا گلدستہ لا رکھا ہے جسے سویدا کہتے ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
