غزل
ભિખારણનું ગીત
ભિખારણનું ગીત
یہ غزل زندگی کی مشکلات اور جدوجہد کے درمیان بھی انسانیت اور امید کے دھاگے بناتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حقیقی خوشی مادی چیزوں میں نہیں، بلکہ اندرونی سکون اور محبت میں پوشیدہ ہے۔ یہ ہمیں محبت اور قربانی کے ذریعے زندگی کے گہرے معانی تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ભિખારણ ગીત મઝાનું ગાય,
આંખે ઝળઝળિયાં આવે ને અમૃત કાનોમાં રેડાય,
بھکارن گیت عمدہ گاتی ہے، آنکھوں میں آنسو چھلک آئیں اور امرت کانوں میں گھل جائے۔
بھکارن گیت عمدہ گاتی ہے، آنکھوں میں آنسو چھلک آئیں اور امرت کانوں میں گھل جائے۔
2
‘મારા પરભૂ મને મંગાવી આપજે સોના-રૂપાનાં બેડલાં,
સાથ સૈયર હું તો પાણીએ જાઉં, ઊડે આભે સાળુના છેડલાં.’
میرے پربھو مجھے منگوا دے سونے روپا کے بیڑلے،سہیلیوں کے سنگ میں تو پانی بھرنے جاؤں، اُڑیں گگن میں ساڑی کے پلے۔
مقرر اپنے پربھو سے سونے اور چاندی کے برتن منگوانے کی درخواست کرتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پانی بھرنے جاتی ہیں اور ان کی ساڑی کے پلو ہوا میں لہراتے ہیں۔
3
એના કરમાંહે છે માત્ર,
ભાંગ્યું-તૂટ્યું ભિક્ષાપાત્ર.
اس کے ہاتھوں میں ہے بس،ٹوٹا پھوٹا کشکول۔
اس کے ہاتھوں میں صرف ایک ٹوٹا ہوا کشکول ہے۔
4
એને અંતર બળતી લા’ય;
ઊંડી આંખોમાં દેખાય.
اس کے دل میں جلتی آگ؛
گہری آنکھوں میں نظر آتی ہے۔
اس کے دل میں جلتی آگ؛ گہری آنکھوں میں نظر آتی ہے۔
5
એને કંઠે રમતું ગાણું, એને હૈયું દમતી હાય,
ભિખારણ ગીત મઝાનું ગાય.
اس کے گلے میں گیت سجاتا، اس کے دل میں دبی آہ،فقیرنی ایک خوبصورت گیت گاتی ہے۔
اس کے گلے میں ایک گیت ہے اور اس کے دل میں ایک دبی ہوئی آہ ہے، پھر بھی فقیرنی ایک خوبصورت گیت گاتی ہے۔
6
‘મારા પરભૂ મને મંગાવી આપજે અતલસ અંબરનાં ચીર,
પેરી-ઓઢીને મારે ના'વા જવું છે ગંગા-જમનાને તીર.'
میرے پربھو مجھے منگوا دے، اطلس امبر کے چِیر، پہن اوڑھ کر مجھے نہانا ہے، گنگا جمنا کے تِیر۔
میرے پربھو، مجھے اطلس و امبر کے لباس منگوا دیں۔ انہیں پہن کر مجھے گنگا جمنا کے کنارے نہانے جانا ہے۔
7
એના કમખે સો સો લીરા,
માથે ઊડતા ઓઢણ-ચીરા.
اس کی چولی سو سو چیتھڑوں میں،سر پر اڑتے اوڑھنی کے پرزے۔
اس کی چولی سو سو چیتھڑوں میں ہے، اور اس کے سر پر اوڑھنی کے پرزے اڑ رہے ہیں۔
8
એની લળતી ઢળતી કાય;
કેમે ઢાંકી ના ઢંકાય.
اُس کی لچکتی ڈھلتی کایا؛ کیسے ڈھانکے نہ ڈھک پائے۔
اُس کی لچکتی اور ڈھلتی کایا (جسم) کسی بھی طرح ڈھانکی نہیں جا سکتی یا چھپائی نہیں جا سکتی ہے۔
9
ગાતી ઊંચે ઊંચે સાદે ત્યારે ઘાંટો બેસી જાય,
ભિખારણ ગીત મઝાનું ગાય.
گاتی اونچے اونچے سُروں میں جب گلا بیٹھ جائے، بھکارن گیت مزے کا گائے۔
جب وہ اونچے اونچے سُروں میں گاتی ہے تو اس کا گلا بیٹھ جاتا ہے، پھر بھی بھکارن ایک مزے دار گیت گاتی ہے۔
10
‘શરદ પૂનમનો ચાંદો પરભુ મારે અંબોડે ગૂંથી તું આપ,
મારે કપાળે ઓલી લાલ લાલ આડશ ઉષાની થાપી તું આપ’
اے پربھو، میرے جُوڑے میں گوندھ دے تو شرد پونم کا چاند، میرے ماتھے پہ وہ لال لال صبح کی سرخی رکھ دے تو۔
اے پربھو، میرے جُوڑے میں گوندھ دے تو شرد پونم کا چاند، میرے ماتھے پہ وہ لال لال صبح کی سرخی رکھ دے تو۔
11
એના શિર પર અવળી આડી,
જાણે ઊગી જંગલ-ઝાડી.
اس کے سر پر الجھی ہوئی ٹیڑھی میڑھی،جیسے اگ آئی جنگل کی جھاڑی۔
اس شخص کے بال بہت الجھے اور بکھرے ہوئے ہیں، ایسے لگتے ہیں جیسے سر پر کوئی جنگلی جھاڑی اگ آئی ہو۔
12
વાયુ ફાગણનો વિંઝાય;
માથું ધૂળ વડે ઢંકાય.
پھاگن کی ہوا چلتی ہے؛سر خاک سے ڈھک جاتا ہے۔
پھاگن کی ہوا چلتی ہے؛ سر خاک سے ڈھک جاتا ہے۔
13
એના વાળે વાળે જૂઓ બબ્બે હાથે ખણતી જાય,
ભિખારણ ગીત મઝાનું ગાય.
اس کے بالوں میں دیکھو، دونوں ہاتھوں سے کھجلاتی جاتی ہے،بھکارن ایک مزے کا گیت گاتی ہے۔
اس کے بالوں میں دیکھو، دونوں ہاتھوں سے کھجلاتی جاتی ہے،بھکارن ایک مزے کا گیت گاتی ہے۔
14
‘સોળે શણગાર સજી આવું પરભૂ મને જોવાને ધરતી પર આવજે,
મુજમાં સમાએલ તારા સ્વરૂપને નવલખ તારાએ વધાવજે.'
سولہ سنگھار سجا کر آؤں، پربھو مجھے دیکھنے زمیں پر آ جانا، مجھ میں سمائے تیرے روپ کو، نولکھ تاروں سے استقبال کرنا۔
سولہ سنگھار سجا کر آؤں، پربھو مجھے دیکھنے زمیں پر آ جانا، مجھ میں سمائے تیرے روپ کو، نولکھ تاروں سے استقبال کرنا۔
15
એનો ભક્તિ - ભીનો સાદ,
દેતો મીરાં કેરી યાદ,
اُس کی بھکتی بھینی ساد، دیتی میراں کی یاد،
اُس کی بھکتی بھینی پکار میراں کی یاد دلاتی ہے۔
16
એની શ્રદ્ધા, એનું ગીત,
એનો પરભૂ, એની પ્રીત.
اس کا ایمان، اس کا گیت، اس کا رب، اس کی محبت۔
یہ شعر کسی شخص کے پختہ ایمان اور اس کے گیتوں کی بات کرتا ہے۔ اس میں اس کے رب اور اس کی محبت کا بھی ذکر ہے۔
17
એની અણસમજી ઇચ્છાઓ જાણે હૈયું કોરી ખાય,
આંખે ઝળઝળિયાં આવે ને અમૃત કાનોમાં રેડાય,
اُس کی نادان خواہشیں جیسے دل کو کُرید کھاتی ہیں،آنکھوں میں اشک آتے ہیں اور امرت کانوں میں اُنڈیل جاتا ہے۔
اُس کی نادان خواہشیں دل کو کُرید رہی ہیں، آنکھوں میں آنسو چھلک آتے ہیں اور امرت کانوں میں اُنڈیل جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
