“Adorned with sixteen ornaments, O Lord, come to earth to see me, And with nine hundred thousand stars, welcome your form that resides within me.”
سولہ سنگھار سجا کر آؤں، پربھو مجھے دیکھنے زمیں پر آ جانا، مجھ میں سمائے تیرے روپ کو، نولکھ تاروں سے استقبال کرنا۔
یہ خوبصورت دوہا ایک عقیدت مند کی طرف سے رب العزت کو ایک دلی دعوت ہے۔ عقیدت مند 'سولہ سنگھار' سے آراستہ ہو کر، مکمل عقیدت اور تیاری کا مظاہرہ کرتی ہے اور رب کو زمین پر آ کر اسے دیکھنے کی التجا کرتی ہے۔ لیکن اس میں گہرا مفہوم یہ ہے کہ وہ رب سے کہتی ہے کہ جب وہ آئیں، تو 'نولکھ تاروں' کی شان و شوکت سے اس روپ کا استقبال کریں جو پہلے سے ہی عقیدت مند کے اندر موجود ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا صرف باہر ہی نہیں بلکہ ہماری ہستی کا لازمی حصہ بھی ہے، اور حقیقی عقیدت اس اندرونی الوہیت کو پہچاننے میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
