“Her naive desires, it seems, gnaw and eat away the heart,Tears well up in the eyes, and nectar is poured into the ears.”
اُس کی نادان خواہشیں دل کو کُرید رہی ہیں، آنکھوں میں آنسو چھلک آتے ہیں اور امرت کانوں میں اُنڈیل جاتا ہے۔
یہ کتنا دلچسپ ہے کہ ہماری معصوم، کبھی کبھی بچکانہ خواہشیں کیسے ہمارے دل کو اندر سے کُرید کھاتی ہیں، ایک گہرا درد پیدا کرتی ہیں! یہ شعر اس اندرونی کشمکش کو خوبصورتی سے دکھاتا ہے، جہاں دل چاہت سے بھر جاتا ہے۔ پھر بھی، ایک نرم موڑ میں، اگرچہ اس آرزو سے آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، کانوں میں ایک گہرا سکون یا میٹھی آواز امرت کی طرح گھل جاتی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کبھی کبھی، ہمارے گہرے دکھوں یا ادھوری خواہشوں کے بیچ بھی، ہمیں ایک متضاد تسلی، خوبصورتی یا سچائی کی سرگوشی ملتی ہے جو درد کو کم کر دیتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
