غزل
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
یہ غزل محبوبِ حقیقی کی ہمہ گیر موجودگی اور صوفیانہ مشاہدے پر مبنی ہے، جس کی شان کائنات کے ہر رنگ اور ہر لمحے میں جلوہ گر ہے۔ شاعر غفلت کے پردے ہٹا کر فطرت کے ہر مظہر میں جلوۂ الٰہی کو دیکھنے اور روحانی عشق میں مکمل خودسپردگی کی تلقین کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
सब रंग में उस गुल की मिरे शान है मौजूद
ग़ाफ़िल तू ज़रा देख वो हर आन है मौजूद
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
غافل تو ذرا دیکھ وہ ہر آن ہے موجود
ہر رنگ میں میرے اس پھول کی شان موجود ہے۔ اے غافل انسان، تو ذرا دیکھ کہ وہ ہر لمحہ موجود ہے۔
2
हर तार का दामन के मिरे कर के तबर्रुक
सर-बस्ता हर इक ख़ार-ए-बयाबान है मौजूद
ہر تار کا دامن کے مرے کر کے تبرک
سربستہ ہر اک خار بیابان ہے موجود
ویرانے کا ہر کانٹا میرے دامن کے ہر ایک دھاگے کو تبرک بنا کر، عقیدت سے سر پر لپیٹے ادب کے ساتھ موجود ہے۔
3
उर्यानी-ए-तन है ये ब-अज़-ख़िलअत-ए-शाही
हम को ये तिरे इश्क़ में सामान है मौजूद
عریانی تن ہے یہ بہ از خلعت شاہی
ہم کو یہ ترے عشق میں سامان ہے موجود
جسم کی یہ برہنگی شاہی خلعت سے بھی بہتر ہے، اور تمہارے عشق میں ہمارے پاس یہی سامان میسر ہے۔
4
किस तरह लगावे कोई दामाँ को तिरे हाथ
होने को तू अब दस्त-ओ-गरेबान है मौजूद
کس طرح لگاوے کوئی داماں کو ترے ہاتھ
ہونے کو تو اب دست و گریبان ہے موجود
کوئی تمہارے دامن کو ہاتھ کیسے لگائے، جب کہ تم تو اب گریبان پکڑ کر جھگڑنے کے لیے بالکل تیار موجود ہو۔
5
लेता ही रहा रात तिरे रुख़ की बलाएँ
तू पूछ ले ये ज़ुल्फ़-ए-परेशान है मौजूद
لیتا ہی رہا رات ترے رخ کی بلائیں
تو پوچھ لے یہ زلف پریشان ہے موجود
میں ساری رات تمہارے چہرے کی بلائیں لیتا رہا؛ اگر یقین نہ آئے تو اپنی بکھری ہوئی زلفوں سے پوچھ لو، جو گواہ کے طور پر یہاں موجود ہیں۔
6
तुम चश्म-ए-हक़ीक़त से अगर आप को देखो
आईना-ए-हक़ में दिल-ए-इंसान है मौजूद
تم چشم حقیقت سے اگر آپ کو دیکھو
آئینۂ حق میں دل انسان ہے موجود
اگر آپ حقیقت کی آنکھ سے اپنے آپ کو دیکھیں، تو خدا کے آئینے میں انسان کا دل موجود ہے۔
7
कहता है 'ज़फ़र' हैं ये सुख़न आगे सभों के
जो कोई यहाँ साहिब-ए-इरफ़ान है मौजूद
کہتا ہے ظفرؔ ہیں یہ سخن آگے سبھوں کے
جو کوئی یہاں صاحب عرفان ہے موجود
ظفر کہتے ہیں کہ میں یہ کلام ان سب کے سامنے کہہ رہا ہوں، جو کوئی بھی یہاں روحانی معرفت اور دانائی رکھنے والا موجود ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
