“How could anyone dare to lay a hand upon your hem, when you stand ever ready now to grapple at the collar?”
کوئی تمہارے دامن کو ہاتھ کیسے لگائے، جب کہ تم تو اب گریبان پکڑ کر جھگڑنے کے لیے بالکل تیار موجود ہو۔
شاعر نے یہاں محبوب کے بدلے ہوئے تیکھے تیوروں کا بڑا خوبصورت اور چٹخارے دار نقشہ کھینچا ہے۔ دامن تھامنا دراصل محبت میں التجا کرنے اور پناہ مانگنے کا استعارہ ہے، مگر محبوب کا مزاج اتنا برہم ہے کہ وہ پیار بھری التجاؤں کے جواب میں لڑنے مرنے اور دست و گریبان ہونے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ عاشق بڑی بے بسی سے سوچتا ہے کہ جس کے تیور پہلے ہی جنگ پر آمادہ ہوں، اس کے سامنے کوئی نیاز مندی سے ہاتھ کیسے پھیلائے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
