“All night long I kept warding every ill from your face; ask your disheveled tresses—they stand witness in this place.”
میں ساری رات تمہارے چہرے کی بلائیں لیتا رہا؛ اگر یقین نہ آئے تو اپنی بکھری ہوئی زلفوں سے پوچھ لو، جو گواہ کے طور پر یہاں موجود ہیں۔
اس شعر میں عاشق رات بھر محبوب کے رخ پر واری جانے اور اس کی بلائیں لینے کا ایک بے حد نازک اور پرخلوص منظر پیش کرتا ہے۔ وہ محبت بھری شوخی سے کہتا ہے کہ اگر تمہیں میرے اس رات بھر کے والہانہ پن پر یقین نہ آئے، تو اپنی بکھری ہوئی زلفوں سے گواہی مانگ لو۔ زلفوں کی یہ پریشانی دراصل رات بھر کی قربت، بے خودی اور پیار بھری انگلیوں کا وہ نتیجہ ہے جو اس خاموش محبت کا جیتا جاگتا ثبوت بن گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
